Thursday, 22 January 2026

یاد آئے ہے بے شمار کوئی

 یاد آئے ہے بے شمار کوئی

کیوں نہ جائے بھی کوئے یار کوئی 

اعتبار اس پہ پھر کِیا میں نے

ہے نہیں جس کا اعتبار کوئی 

لاکھ ناصح ہیں آس پاس مِرے

کاش ہو جاتا غمگسار کوئی

داغِ دل میں نے اب سنوار لیا

دل جلوں میں کرے شمار کوئی

کب سے الطاف دل بھی وِیراں ہے

نہ رہا دوست، اور نہ یار کوئی


الطاف زرگر

No comments:

Post a Comment