یاد آئے ہے بے شمار کوئی
کیوں نہ جائے بھی کوئے یار کوئی
اعتبار اس پہ پھر کِیا میں نے
ہے نہیں جس کا اعتبار کوئی
لاکھ ناصح ہیں آس پاس مِرے
کاش ہو جاتا غمگسار کوئی
داغِ دل میں نے اب سنوار لیا
دل جلوں میں کرے شمار کوئی
کب سے الطاف دل بھی وِیراں ہے
نہ رہا دوست، اور نہ یار کوئی
الطاف زرگر
No comments:
Post a Comment