روشنی
سانحوں میں الٹی ہیں
بستیاں بھی اجڑی ہیں
لوگ بھول جاتے ہیں
سرکشی بلا کی ہے
رہبری قفس میں ہے
انبیاء کے قاتل لوگ
پھیل پھیل ہنستے ہیں
جنتوں کے شہزادے
بوند کو ترستے ہیں؟
ناگ ہر حکومت کے
مملکت کو ڈستے ہیں
روشنی سے نکلے جو
لوٹ کر وہ آئیں گے
چھوڑ گئے ہیں وہ ہم کو
ہم مگر بلائیں گے
وہ جو پھول بکھرے تھے
ٹہنیوں سے گزرے تھے
کوئی خونریزی کی جنگ
آ کے کیوں نہ روکے ہے؟
سانحوں کے بادل کیوں
بے بہا برستے ہیں
سانحہ نویسی پر
بات پھر وہ یاد آئی
بات اس فرشتے کی
آدمی فسادی ہے؟
آدمی فسادی ہے
نہ کوئی یہ ہادی ہے
روشنی جو کھل جائے
بند کالے کمرے میں
جھوٹ سب عیاں ہوں گے
رنگ جتنے چہروں پر
سب سیاہ داں ہوں گے
پھر وہی سماں ہو گا
جب کسی فضا کا رنگ
سرخ آنکھیں دیتا ہے
پھول نیلے پڑ جائیں
ایسا زخم دیتا ہے
یاد پھر وہ آتا ہے
کوئی ٹھیک بولا تھا
آدمی فسادی ہے
ہاں نہیں یہ مومن پر
بنتا اک جہادی ہے
اب تو پھر نومبر ہے
گزری جو دسمبر تھی
کربلائے ثانی کے
سانحے سے گزری تھی
اور پھر اداسی کی
بے رحم سی دوشیزہ
ماؤں کے دوپٹوں کے
پلوں سے لپٹی تھی
روز آسماں پر پھر
آفتابِ محشر ہو
صبح پھر کہاں ہو گی
دل میں جب قضا ہو گی
آگ پھر بجھانی ہے
روشنی جو لانی ہے
دل کی بستیوں میں اک
کہکشاں بنانی ہے
روز روز خوں ریزی
دل کی یہ بلا تیزی
ذہن کو جگا دے گر
خاک پر سلاتی ہے
آگ پانی خاک و بو
نظرِ شاہ قیصر رو
رنگ آئینہ گلشن
جگ جہاں سبھی الجھن
خاک و خس قمر چاندی
ذہن و دل سبھی عادی
دل کی جب رہائی ہو
ذہن تک رسائی ہو
خاک دانِ آدم میں
روح کی کمائی ہو
آج پھر وہاں جائیں
رنگ میں نہا جائیں
جن کی آنکھیں خالی وہ
ابرمیں سما جائیں
مملکت میں جو آئے
عدل کا وہ پیکر ہو
رہبروں کا رہبر ہو
نظر کا تُرابی ہو
حاضرِ جوابی ہو
دل کے سارے زخموں پر
مرہمِ سکوں وہ ہو
ماں کے آنسوں میں پھر
بہتا اک جنوں وہ ہو
جو دیے لے آئیں
آج اس عہد میں پھر
روشنی مینارِ روح
روشنی تو اندر ہے
روح بھی سمندر ہے
ڈھونڈ لو خودی اپنی
قوم کی خودی اپنی
غالب و فراز آئیں
اقبال کے جہاں آئیں
گر اندھیرا اندر ہے
روشنی قضا سی ہے
فقط اک دعا سی ہے
ماہِ نو
No comments:
Post a Comment