پہلے تو چاک زخم جگر دیکھتے رہے
پھر دیکھنے والوں کی نظر دیکھتے رہے
تھمنے کہاں دیا تھا ہمیں خواہشات نے
رک رک کے بازوؤں کا ہنر دیکھتے رہے
لب پر کھلے ہوئے تھے تبسم کے پھول پر
جو خاک نظر تھے وہ شرر دیکھتے رہے
تم نے تو زندگی کا سفر ختم کر دیا
ہم تھے کہ تیری راہگزر دیکھتے رہے
پہلے تو ہم نے درد کے پودے لگائے خود
پھر آنسوؤں کے برگ و ثمر دیکھتے رہے
آواز دے رہی تھی نئی زندگی ہمیں
ہم لوگ مگر رختِ سفر دیکھتے رہے
نیلوفر نور
No comments:
Post a Comment