Sunday, 18 January 2026

پہلے تو چاک زخم جگر دیکھتے رہے

 پہلے تو چاک زخم جگر دیکھتے رہے

پھر دیکھنے والوں کی نظر دیکھتے رہے

تھمنے کہاں دیا تھا ہمیں خواہشات نے

رک رک کے بازوؤں کا ہنر دیکھتے رہے

لب پر کھلے ہوئے تھے تبسم کے پھول پر

جو خاک نظر تھے وہ شرر دیکھتے رہے

تم نے تو زندگی کا سفر ختم کر دیا

ہم تھے کہ تیری راہگزر دیکھتے رہے

پہلے تو ہم نے درد کے پودے لگائے خود

پھر آنسوؤں کے برگ و ثمر دیکھتے رہے

آواز دے رہی تھی نئی زندگی ہمیں

ہم لوگ مگر رختِ سفر دیکھتے رہے


نیلوفر نور

No comments:

Post a Comment