Monday, 19 January 2026

ہمارے پر ہیں شکستہ اڑان باقی ہے

 ہمارے پر ہیں شکستہ اڑان باقی ہے

نیا ہے عزم سفر آن بان باقی ہے

تمہارا فیصلہ منظور ہو مجھے کیسے

ابھی تو ہونے کو میرا بیان باقی ہے

یہ کم نہیں کہ زمانے میں آج زندہ ہوں

کہ دو جہاں میں مرا مہربان باقی ہے

تم اپنے تیر نظر بارہا چلاتے رہو

ابھی تو جسم میں کچھ اور جان باقی ہے

یہ کہہ کے لیتے ہیں میرے مزار کے بوسے

یہی تو اہل وفا کا نشان باقی ہے

ہمارے واسطے کوئی بھی چھت نہیں ہے مینک

ہمارے سر پہ مگر آسمان باقی ہے


مینک اکبرآبادی

کے کے سنگھ

No comments:

Post a Comment