ہمارے پر ہیں شکستہ اڑان باقی ہے
نیا ہے عزم سفر آن بان باقی ہے
تمہارا فیصلہ منظور ہو مجھے کیسے
ابھی تو ہونے کو میرا بیان باقی ہے
یہ کم نہیں کہ زمانے میں آج زندہ ہوں
کہ دو جہاں میں مرا مہربان باقی ہے
تم اپنے تیر نظر بارہا چلاتے رہو
ابھی تو جسم میں کچھ اور جان باقی ہے
یہ کہہ کے لیتے ہیں میرے مزار کے بوسے
یہی تو اہل وفا کا نشان باقی ہے
ہمارے واسطے کوئی بھی چھت نہیں ہے مینک
ہمارے سر پہ مگر آسمان باقی ہے
مینک اکبرآبادی
کے کے سنگھ
No comments:
Post a Comment