Tuesday, 13 January 2026

تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے

 تُو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے

ہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھے

وہ آتے ہی آتے رہے پر قلق سے

مِرا کام ہی ہو گیا بیٹھے بیٹھے

اٹھاتے ہو کیوں اپنی محفل سے مجھ کو

لیا میں نے کیا آپ کا بیٹھے بیٹھے

کرے سعی کچھ اٹھ کے اس کو سے اے دل

یہ حاصل ہوا مدعا بیٹھے بیٹھے

وو اس لطف سے گالیاں دے گئے ہیں

کیا کرتے ہیں ہم دعا بیٹھے بیٹھے

ذرا گھر سے باہر نکل مان کہنا

نہ ہو گا کوئی مبتلا بیٹھے بیٹھے

نہ اٹھا گیا دل کے ہاتھوں سے تسکیں

کہا اس نے جو سب سنا بیٹھے بیٹھے


میر تسکین دہلوی

میر حسین

No comments:

Post a Comment