بعض اوقات تو اِک لمحے میں بھر جاتا ہے
غم کا آنسو ہر تکیے میں بھر جاتا ہے
پربت کو آواز لگا کر سو جاتی ہوں
دریا آ کر مشکیزے میں بھر جاتا ہے
پیاس ہماری پانی دیکھ کے بجھ جاتی ہے
شِکم بھی پہلے ہی لقمے میں بھر جاتا ہے
اس نے جس میں آدم سینچنا ہوتا ہے
غم پہلے ہی اس سانچے میں بھر جاتا ہے
ماہِ نو
No comments:
Post a Comment