عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رب نے مِرا نصیب سنوارا تو میں گیا
طیبہ کی سر زمیں نے پکارا تو میں گیا
صد شکر ہو گئی مِری اس در پہ حاضری
رب نے اثر دعا میں اُتارا تو میں گیا
گرد و نواح کا نہ مجھے ہوش تک رہا
دل نے نبی نبیﷺ جو پکارا تو میں گیا
ہو فتح ان کی راہ پہ چلتے ہوئے نصیب
نیکی بدی کی جنگ میں ہارا تو میں گیا
دل کو بڑا سکون تھا روضے کی دید سے
اوجھل جونہی ہوا وہ نظارا تو میں گیا
کر دی اگر انہوں نے شفاعت تو ہو گی خیر
اچھے بُرے کو رب نے نتھارا تو میں گیا
پہلے بھی ایک بار صفی میں گیا وہاں
مجھ پر کرم ہوا یہ دوبارا تو میں گیا
عتیق الرحمٰن صفی
No comments:
Post a Comment