ضبط کرنا جو سیکھ جاتے ہیں
بس وہی لوگ مسکراتے ہیں
جب تصور میں میرے آتے ہیں
یادِ ماضی بھی ساتھ لاتے ہیں
جب میں تنہا قدم بڑھاتی ہوں
چاند تارے بھی ساتھ آتے ہیں
وہ منانے ضرور آئیں گے
ایسا کرتے ہیں روٹھ جاتے ہیں
ایسے لوگوں سے فاصلہ بہتر
کر کے احسان کو جتاتے ہیں
صبح ہوتے ہی پیڑ پر پنچھی
تیری قدرت کے گیت گاتے ہیں
ان کے آنے کے جشن پر گھر میں
دِیپ خوشیوں کے ہم جلاتے ہیں
چھپ گئے تارے ابر میں مہرو
اب تو جگنو ہی جگمگاتے ہیں
مہرالنساء مہرو
No comments:
Post a Comment