Tuesday, 13 January 2026

ضبط کرنا جو سیکھ جاتے ہیں

 ضبط کرنا جو سیکھ جاتے ہیں

بس وہی لوگ مسکراتے ہیں

جب تصور میں میرے آتے ہیں

یادِ ماضی بھی ساتھ لاتے ہیں

جب میں تنہا قدم بڑھاتی ہوں

چاند تارے بھی ساتھ آتے ہیں

وہ منانے ضرور آئیں گے

ایسا کرتے ہیں روٹھ جاتے ہیں

ایسے لوگوں سے فاصلہ بہتر

کر کے احسان کو جتاتے ہیں

صبح ہوتے ہی پیڑ پر پنچھی

تیری قدرت کے گیت گاتے ہیں

ان کے آنے کے جشن پر گھر میں

دِیپ خوشیوں کے ہم جلاتے ہیں

چھپ گئے تارے ابر میں مہرو

اب تو جگنو ہی جگمگاتے ہیں


مہرالنساء مہرو

No comments:

Post a Comment