عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قرطاس پر نہ چھوڑ کتابت درود کی
مہمل نہ لکھ قلم سے عبارت درود کی
کرتی ہیں مکھیاں بھی تلاوت درود کی
جو شہد میں ہے ساری حلاوت درود کی
قراٰن نے کہا ہے شفا، کیوں شفا نہ ہو
پھولوں کے اس عرق میں ہے حکمت درود کی
صوم و صلوٰة و حج کی ادا کا ہے وقت خاص
جب بھی پڑھو ادا ہے عبادت درود کی
دن ہو کہ رات، وقتِ کراہت کہ مستحب
صلوا علیہ، عام ہے ساعت درود کی
اللہ بھیجتا ہے درود، اُن پہ اور مَلک
اے مومنو! ہے تم کو ہدایت درود کی
اُس کے بدن کو قبر کی مٹی نہ کھائے گی
جس کے لبوں پہ رہتی ہے کثرت درود کی
کھلتے رہیں گلاب، درود و سلام کے
لائے گی اُن کو خواب میں نکہت درود کی
اُن پر پڑھوں درود، میں روضے کے سامنے
یا رب! عطا ہو پھر یہ سعادت درود کی
سیفی! تمام ہوتی نہیں ہے کوئی نماز
جب تک لگے نہ مہرِ محبت درود کی
شاکر حسین سیفی
No comments:
Post a Comment