عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
باغ کے نو نہال پودوں سے
رونق گلستاں پرندوں سے
ذکر اس کا رہے گا کہ زندہ
عشق کا نام اس کے بندوں سے
رو چکے خوب مرنے والوں کو
اب گلے بڑھ چکے ہیں زندوں سے
ان کے روضے کے سامنے بیٹھیں
کب رہا ہوں گے کام دھندوں سے
ہاتھ میں علم کی کمندیں ہیں
کیسے آزاد ہوں گے پھندوں سے
عاجزی سے کہیں نہ ہٹ جائیں
دور رہتے ہیں خود پسندوں سے
آپ بھی میرے ساتھ ساتھ آئیں
یہ گزارش ہے درد مندوں سے
روح سیراب نعت سے فیضی
"دل کا گلشن کھلا درودوں سے"
مبشر حسین فیضی
No comments:
Post a Comment