Thursday, 22 January 2026

باغ کے نو نہال پودوں سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


باغ کے نو نہال پودوں سے

رونق گلستاں پرندوں سے

ذکر اس کا رہے گا کہ زندہ

عشق کا نام اس کے بندوں سے

رو چکے خوب مرنے والوں کو

اب گلے بڑھ چکے ہیں زندوں سے

ان کے روضے کے سامنے بیٹھیں

کب رہا ہوں گے کام دھندوں سے

ہاتھ میں علم کی کمندیں ہیں

کیسے آزاد ہوں گے پھندوں سے

عاجزی سے کہیں نہ ہٹ جائیں

دور رہتے ہیں خود پسندوں سے

آپ بھی میرے ساتھ ساتھ آئیں

یہ گزارش ہے درد مندوں سے

روح سیراب نعت سے فیضی

"دل کا گلشن کھلا درودوں سے"


مبشر حسین فیضی

No comments:

Post a Comment