Thursday, 22 January 2026

ہمیشہ ورغلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو

 ہمیشہ ورغلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو

ہمارا دل دکھاتے ہو خدا غارت کرے تم کو

یہ کیا طرز محبت ہے مرادیں غیر کو لیکن

ہمیں الو بناتے ہو خدا غارت کرے تم کو

عدو کو پیش کرتے ہو شراب انگبیں جانم

ہمیں تلچھٹ پلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو

تمہیں ہے غیر سے چاہت کہے کچھ بھی وہ کرتے ہو

پہ ہم کو آزماتے ہو خدا غارت کرے تم کو

اسے بوسے ہمیں لاتیں اسے وعدے ہمیں گھاتیں

یہ کیسے گل کھلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو

اگر کہنا ہو کچھ ہم سے ہمیشہ گھور کر دیکھو

عدو پر مسکراتے ہو خدا غارت کرے تم کو

نظر مجھ پر جماتے ہو پہ دیکھو غیر کی جانب

یہ کیا چکر چلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو

مرا قصر تمنا توڑ کر انور مگر اب کیوں

نئے سپنے دکھاتے ہو خدا غارت کرے تم کو


انور شیخ

No comments:

Post a Comment