ہمیشہ ورغلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
ہمارا دل دکھاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
یہ کیا طرز محبت ہے مرادیں غیر کو لیکن
ہمیں الو بناتے ہو خدا غارت کرے تم کو
عدو کو پیش کرتے ہو شراب انگبیں جانم
ہمیں تلچھٹ پلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
تمہیں ہے غیر سے چاہت کہے کچھ بھی وہ کرتے ہو
پہ ہم کو آزماتے ہو خدا غارت کرے تم کو
اسے بوسے ہمیں لاتیں اسے وعدے ہمیں گھاتیں
یہ کیسے گل کھلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
اگر کہنا ہو کچھ ہم سے ہمیشہ گھور کر دیکھو
عدو پر مسکراتے ہو خدا غارت کرے تم کو
نظر مجھ پر جماتے ہو پہ دیکھو غیر کی جانب
یہ کیا چکر چلاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
مرا قصر تمنا توڑ کر انور مگر اب کیوں
نئے سپنے دکھاتے ہو خدا غارت کرے تم کو
انور شیخ
No comments:
Post a Comment