Wednesday, 21 January 2026

تیری سوچ کے عین منافی ہو سکتی ہے

 تیری سوچ کے عین منافی ہو سکتی ہے

ایک محبت کیسے کافی ہو سکتی ہے

ہجر ملے تو حسن کا چہرہ جل سکتا ہے

پیار ملے تو لڑکی پیاری ہو سکتی ہے

غم کا سورج دیر تلک نہ رکھنا سر پر

زیادہ دھوپ میں رنگت کالی ہو سکتی ہے

مجھ میں وہ آسیب ہیں جن کا توڑ نہیں 

لیکن یہ جاگیر تمہاری ہو سکتی ہے

جون کی ساری غزلیں پڑھ کر سوچ رہی ہوں 

دل کی دنیا یوں بھی خالی ہو سکتی ہے


ماہِ نو

No comments:

Post a Comment