تیری سوچ کے عین منافی ہو سکتی ہے
ایک محبت کیسے کافی ہو سکتی ہے
ہجر ملے تو حسن کا چہرہ جل سکتا ہے
پیار ملے تو لڑکی پیاری ہو سکتی ہے
غم کا سورج دیر تلک نہ رکھنا سر پر
زیادہ دھوپ میں رنگت کالی ہو سکتی ہے
مجھ میں وہ آسیب ہیں جن کا توڑ نہیں
لیکن یہ جاگیر تمہاری ہو سکتی ہے
جون کی ساری غزلیں پڑھ کر سوچ رہی ہوں
دل کی دنیا یوں بھی خالی ہو سکتی ہے
ماہِ نو
No comments:
Post a Comment