سُنا ہے جب سے کہ وقت میرا بگڑ رہا ہے
جگہ جگہ سے ہر ایک رشتہ اُدھڑ رہا ہے
جو تیرے ہاتھوں میں آج ہے، کل نہیں رہے گا
تُو جس پہ اِترا رہا ہے اتنا اکڑ رہا ہے
کہیں تعلق بحال کرنے میں ہم لگے ہیں
کہیں کسی سے ہمارا رشتہ بگڑ رہا ہے
ابھی اندھیروں کا حکم نامہ نہیں چلے گا
ابھی ہمارا چراغ آندھی سے لڑ رہا ہے
گزارنے ہیں ابھی ہمیں دن یہ جیسے تیسے
ابھی کسوٹی پہ وقت ہم کو رگڑ رہا ہے
رازق انصاری
No comments:
Post a Comment