Wednesday, 14 January 2026

کبھی کرم کبھی غیظ و غضب تو ہو گا ہی

کبھی کرم کبھی غیظ و غضب تو ہو گا ہی

مزاجِ یار سلامت، یہ سب تو ہو گا ہی

کسی کے گھر میں بِچھی ہو اگر صفِ ماتم

کسی کی بزم میں جشنِ طرب تو ہو گا ہی

تمہاری بات ہو یا ذِکرِ حُور و غُلماں کا

بیانِ شانہ و رُخسار و لب تو ہو گا ہی

ادب کے نام پہ ہو گی جو اتنی پابندی

تو کوئی واقعہ سُوئے ادب تو ہو گا ہی

میں اِختلاف نہ ان سے کبھی کروں اے راز

پڑے خودی پہ مگر ضرب تب تو ہو گا ہی


غلام حسین راز بالاپوری

No comments:

Post a Comment