زبانیں ہیں مگر چرچے نہیں ہیں
جہاں میں کیا مِرے قصے نہیں ہیں
ہماری داستاں ہی عام کر دو
اگر تاریخ کے پنّے نہیں ہیں
کھڑے ہیں شبنمی اخلاق لے کر
کبھی شعلوں سے ہم جلتے نہیں ہیں
زبانیں ہیں مگر چرچے نہیں ہیں
جہاں میں کیا مِرے قصے نہیں ہیں
ہماری داستاں ہی عام کر دو
اگر تاریخ کے پنّے نہیں ہیں
کھڑے ہیں شبنمی اخلاق لے کر
کبھی شعلوں سے ہم جلتے نہیں ہیں
لمحے بدل گئے، نہ زمانے بدل گئے
کیسے یہ زندگی کے فسانے بدل گئے
یہ تو نہیں کہ کھیتوں کے دانے بدل گئے
پھر کیوں یہ پنچھیوں کے ٹھکانے بدل گئے
اندازِ بے وفائی جو کل تھا وہ اب بھی ہے
ہے فرق صرف یہ کہ بہانے بدل گئے
صحرا صحرا ساگر ساگر میں بھی ڈھونڈوں تُو بھی ڈھونڈ
کون چُھپا ہے کس کے اندر میں بھی ڈھونڈوں تو بھی ڈھونڈ
چور سپاہی ایک برابر،۔ میں بھی ڈھونڈوں بھی ڈھونڈ
کس کے پاس ہے خونی خنجر میں بھی ڈھونڈوں تُو بھی ڈھونڈ
امن و امان کا جسے فرشتہ کہتے ہیں سب دنیا والے
سرحد سرحد وہی کبوتر میں بھی ڈھونڈوں تُو بھی ڈھونڈ
گناه کیسا، عذاب و ثواب کون لکھے
ہوا کے ماتھے پہ تقریرِ آب کون لکھے
حقیقوں کے سمندر کو خواب کون لکھے
سفید خون سے اب انقلاب کون لکھے
میں قرض بن کے تِرے ساتھ ہی تو لوں لیکن
سوال یہ ہے کہ اس کا حساب کون لکھے
ہے سیاست تو شب و روز تماشا ہو گا
امن کے نام پہ بارود کا سودا ہو گا
سب نے کل رات یہی خواب میں دیکھا ہو گا
مرغ بولے گا ابھی اور سویرا ہو گا
جانے کس طرح سے رات اس نے گزاری ہو گی
ماں نے جب بچے کو بھوکا ہی سلایا ہو گا
ہے رازِ ہستی کہ میرے دل میں یہ نور کیوں ہے یہ رنگ کیوں ہے
زمانہ میری انا شناسی، وفا پرستی پہ دنگ کیوں ہے
نظر میں تھی جس نظر کی وُسعت وہی نظر اتنی تنگ کیوں ہے
شعور والوں کے ذہن و دل پر یہ تنگ نظری کا زنگ کیوں ہے
زبانِ فطرت کی ہر صدا پر سوال کرتے ہیں ساز و نغمے
اذانِ حق پر ہے ناز اس کو تو ہاتھ میں پھر یہ چنگ کیوں ہے