آج یہ کیسا مے خانے کا منظر منظر ہے
چھلکا ہوا پیاسوں کے لہُو سے ساغر ساغر ہے
ایسوں سے رُودادِ غمِ دل کہنے بیٹھے ہیں
جن کی زباں کا جُملہ جُملہ نشتر نشتر ہے
آؤ چلو تاریخ میں ڈُھونڈیں ایسے انساں کو
جس کی سچائی کا شاہد پتھر پتھر ہے
مقتل کے گوشے گوشے سے آتی ہے آواز
چاہے کتنا کُند ہو پھر بھی خنجر خنجر ہے
میں نے کس کا خُون کِیا ہے جُرم ہے میرا کیا
قتل پہ میرے آمادہ کیوں لشکر لشکر ہے
مجھ کو اک جُگ بیت گیا ہے زِنداں میں رہتے
ذہن میں لیکن آج بھی گھر کا منظر منظر ہے
مجھ کو کمال اتنا کہنا ہے فنکاروں سے آج
آئینہ آئینہ ہے، اور جوہر جوہر ہے
کمال لکھنوی
سید غلام عباس
No comments:
Post a Comment