تیرا غم بھی میرے ہی غم جیسا ہے
لگتا اب تُو بھی خُوش اچھا خاصا ہے
تُو ہے جفا کا اور وفا کا میں قائل
تیرا اپنا، میرا اپنا رستہ ہے
لوگ اس کو پتھر مارنے لگتے ہیں
پھل سے جب بھی کوئی شجر بھر جاتا ہے
سامنے میرے آج تلک پھر آیا نہیں
وقت کی طرح شاید مجھ سے بِچھڑا ہے
وصل کے اک لمحے کی خاطر کیا رونا
قسمت میں جب اپنی ہِجر ہی لکھا ہے
کر لو تم تدبیریں چاہے لاکھ وقار
ہنسنے والا آ کر اک دن روتا ہے
راجہ وقار عظیم
No comments:
Post a Comment