Wednesday, 19 August 2026

یعنی مجھ سے ترک تعلق کر لو

 اس غزل کا کریڈٹ یوٹیوب چینل سخنور کو جاتا ہے


ایک روز اس محبوبہ (عنیزہ) نے ٹیلے کی پشت پر آڑ میں کھڑے ہو کر

بڑی سختی اور ناگواری کے ساتھ مجھ سے ترک تعلق کی بات کی

اور مجھے چھوڑ کر چلے جانے کی قطعی قسم کھائی

ایسی قسم جس کو توڑا نہیں جا سکتا

میں نے اس سے کہا کہ اے فاطمہ (عنیزہ کا دوسرا نام) 

ناز و نخرے چھوڑ دو، اور اگر تم نے مجھ سے ترک تعلق

اور جدا ہونے کا فیصلہ کر ہی لیا 

تو پھر خوش اسلوبی سے علیحدگی اختیار کرو

شاید تم کو اس احساس نے دھوکہ میں ڈال دیا ہے

اور تمہارے اندر غرور پیدا کر دیا ہے کہ

تمہاری محبت مجھے مار ڈالے گی

اور میں تمہارا ہر حکم بجا لاؤں گا

کہ میرا دل تمہارے حکم کا پابند ہے

تم نے میرے دل کے دو حصے کر دئیے ہیں

ایک حصہ تو ختم ہو چکا ہے

اور دوسرا لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے

اگر تم کو میری کوئی عادت پسند نہیں ہے

کوئی خصلت بری معلوم ہوتی ہے

تو میرے کپڑوں سے اپنے کپڑے الگ کر دو

یعنی مجھ سے ترک تعلق کر لو

اگر تمہیں جدائی پسند ہے تو میں بھی اسے پسند کرتا ہوں

حالانکہ یہ میرے لیے ہلاکت کا باعث ہو گی


شاعری: امراءالقیس/عمروالقیس الکندی

اردو ترجمہ: امیر حسن نورانی

No comments:

Post a Comment