عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر سمت روشنی کا حوالہ ہیں فاطمہؑ
اس کارِ دو جہاں کا اجالا ہیں فاطمہؑ
بیٹی ہے اپنے باپ سے کچھ اس طرح جڑی
گر مصطفیٰﷺ ہیں چاند تو ہالہ ہیں فاطمہؑ
رتبوں کا امتزاج بھی کیسا حسین ہے
ہیں مرتضیٰؑ جو عالی تو اعلیٰ ہیں فاطمہؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر سمت روشنی کا حوالہ ہیں فاطمہؑ
اس کارِ دو جہاں کا اجالا ہیں فاطمہؑ
بیٹی ہے اپنے باپ سے کچھ اس طرح جڑی
گر مصطفیٰﷺ ہیں چاند تو ہالہ ہیں فاطمہؑ
رتبوں کا امتزاج بھی کیسا حسین ہے
ہیں مرتضیٰؑ جو عالی تو اعلیٰ ہیں فاطمہؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت استقبالِ محرم
غمِ حسینؑ کا یوں انتظار رہتا ہے
تمام سال یہ دل بے قرار رہتا ہے
یہ معجزہ بھی ہے شبیرؑ تیری الفت کا
کہ ہم کو اشک بہانے سے پیار رہتا ہے
ہم اہل درد ہیں، ہم عاشقوں کی خوشیوں کا
غمِ حسینؑ پہ دار و مدار رہتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
در پیش ہے فراق کا زینہ حسینؑ کو
اب چھوڑنا ہے ناناؐ مدینہ حسینؑ کو
کس سے لپٹ کے روئے گا اب یہ تِرا غریب
تیرا مزار تھا تِرا سینہ حسینؑ کو
اک بے گیاہ دشت میں آساں ہوئی ہے موت
دشوار ہے مدینہ میں جینا حسینؑ کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کوہِ ادراک سے کچھ نُطق کے نگیں دے دے
خانۂ عرض کو الفاظ کے مکیں دے دے
اس قلم سے نہ لکھی جائے گی مدحِ سرورؑ
مجھ کو جبریلؑ کا پر کوئی نورگیں دے دے
آسمانوں سے تقابل ہے درِ نعت گوئی
اس نہج کی کوئی قرطاس کو زمیں دے دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کمالِ عشق کی معراج یوں نبھاتے ہیں
حسینؑ زین سے سُوئے زمین آتے ہیں
تڑپ رہی ہے زمیں، بحر و بر پہ لرزہ ہے
کل انبیاء کے لبوں پر سدائے گریہ ہے
ملائکہ سرِ افلاک خاک اڑاتے ہیں
حسینؑ زین سے سُوئے زمین آتے ہیں
سوارِ دوشِ مساؐفرِ منتہیٰ
جہانِ فانی میں ایک عالم بقا کا اترا
زمیں پہ دُوجا ستارہ عرشِ ولا کا اترا
دلِ نبیﷺ پہ کلام پہلے خدا کا اترا
دلِ نبیﷺ پہ کلام یہ مرتضیٰؑ کا اترا
تجلیِ حُسنِ مجتبیٰؑ پہ نظر یہ بولی
لباسِ خاکی میں روپ یہ تو خدا کا اترا
لہو لہو ہے جگر، آب آب آنکھیں ہیں
خیال غرقِ گماں ہے، زبان ہے عاجز
قلم کی نبض ہے ساکت، بیاض مردہ ہے
کمالِ موجِ سخن پہ عجیب سکتہ ہے
میں ڈھونڈتا ہوں وہ جگنو جو اس اندھیرے
ضیائے راحتِ دل کا کچھ اہتمام کریں