Showing posts with label ارسلان زیدی. Show all posts
Showing posts with label ارسلان زیدی. Show all posts

Thursday, 8 August 2024

ہر سمت روشنی کا حوالہ ہیں فاطمہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر سمت روشنی کا حوالہ ہیں فاطمہؑ

اس کارِ دو جہاں کا اجالا ہیں فاطمہؑ

بیٹی ہے اپنے باپ سے کچھ اس طرح جڑی

گر مصطفیٰﷺ ہیں چاند تو ہالہ ہیں فاطمہؑ

رتبوں کا امتزاج بھی کیسا حسین ہے

ہیں مرتضیٰؑ جو عالی تو اعلیٰ ہیں فاطمہؑ

Tuesday, 9 July 2024

غم حسین کا یوں انتظار رہتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت استقبالِ محرم

 

غمِ حسینؑ کا یوں انتظار رہتا ہے

تمام سال یہ دل بے قرار رہتا ہے

یہ معجزہ بھی ہے شبیرؑ تیری الفت کا

کہ ہم کو اشک بہانے سے پیار رہتا ہے

ہم اہل درد ہیں، ہم عاشقوں کی خوشیوں کا

غمِ حسینؑ پہ دار و مدار رہتا ہے

Monday, 8 July 2024

در پیش ہے فراق کا زینہ حسین کو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


در پیش ہے فراق کا زینہ حسینؑ کو

اب چھوڑنا ہے ناناؐ مدینہ حسینؑ کو

کس سے لپٹ کے روئے گا اب یہ تِرا غریب

تیرا مزار تھا تِرا سینہ حسینؑ کو

اک بے گیاہ دشت میں آساں ہوئی ہے موت

دشوار ہے مدینہ میں جینا حسینؑ کو

Sunday, 30 June 2024

کوہ ادراک سے کچھ نطق کے نگیں دے دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کوہِ ادراک سے کچھ نُطق کے نگیں دے دے

خانۂ عرض کو الفاظ کے مکیں دے دے

اس قلم سے نہ لکھی جائے گی مدحِ سرورؑ

مجھ کو جبریلؑ کا پر کوئی نورگیں دے دے

آسمانوں سے تقابل ہے درِ نعت گوئی

اس نہج کی کوئی قرطاس کو زمیں دے دے

Saturday, 29 June 2024

کمال عشق کی معراج یوں نبھاتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کمالِ عشق کی معراج یوں نبھاتے ہیں

حسینؑ زین سے سُوئے زمین آتے ہیں


تڑپ رہی ہے زمیں، بحر و بر پہ لرزہ ہے

کل انبیاء کے لبوں پر سدائے گریہ ہے

ملائکہ سرِ افلاک خاک اڑاتے ہیں

حسینؑ زین سے سُوئے زمین آتے ہیں

Saturday, 10 July 2021

جہان فانی میں ایک عالم بقا کا اترا

سوارِ دوشِ مساؐفرِ منتہیٰ

 

جہانِ فانی میں ایک عالم بقا کا اترا

زمیں پہ دُوجا ستارہ عرشِ ولا کا اترا

دلِ نبیﷺ پہ کلام پہلے خدا کا اترا

دلِ نبیﷺ پہ کلام یہ مرتضیٰؑ کا اترا

تجلیِ حُسنِ مجتبیٰؑ پہ نظر یہ بولی

لباسِ خاکی میں روپ یہ تو خدا کا اترا

Friday, 18 June 2021

لہو لہو ہے جگر آب آب آنکھیں ہیں

لہو لہو ہے جگر، آب آب آنکھیں ہیں

خیال غرقِ گماں ہے، زبان ہے عاجز

قلم کی نبض ہے ساکت، بیاض مردہ ہے

کمالِ موجِ سخن پہ عجیب سکتہ ہے

میں ڈھونڈتا ہوں وہ جگنو جو اس اندھیرے

ضیائے راحتِ دل کا کچھ اہتمام کریں