Monday, 19 October 2026

ہے دھوپ‌ چھاؤں کی مانند زندگی میری

 ہے دُھوپ‌ چھاؤں کی مانند زندگی میری

ثبات غم کو نہیں عارضی خُوشی میری

اسی کو اب مِری ہر بات زہر لگتی ہے

کبھی پسند نہ تھی جس کو خامشی میری

تِری نظر کا سہارا بڑا سہارا تھا

جہاں میں کر نہ سکا کوئی ہمسری میری

کبھی گُناہ کبھی حسرتِ گُناہ کا غم

تمام کربِ مُسلسل ہے زندگی میری

میں دل کا حال اسی کو سُناتا رہتا ہوں

چُھپی نہ جس سے کوئی بات انکہی میری

میں مثلِ کرمکِ شب تاب جلتا رہتا ہوں

کسی کے کام تو آئے گی روشنی میری

جو میرے خدشۂ فردا پہ خندہ زن ہیں خلش

مِری دُعا ہے ملے ان کو آ گئی میری


خلش کلکتوی

رشید الزماں

No comments:

Post a Comment