Showing posts with label شہزاد احمد. Show all posts
Showing posts with label شہزاد احمد. Show all posts

Sunday, 21 April 2024

ہم اور ہوا گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا

 ہم اور ہوا


گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا

میری بھی تقدیر رہا ہے

تم نے بھی دُنیا دیکھی ہے

پھر بھی جب ہم ملتے ہیں

بچوں جیسی معصومی سے باتیں کرتے ہیں

تم کہتی ہو

Saturday, 8 October 2022

جھانکتا ہے تری آنکھوں سے زمانوں کا خلا

 تنہائی کے بعد


جھانکتا ہے تِری آنکھوں سے زمانوں کا خلا

تیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس

تیرے سینے میں رہا شورِ بہاراں کا خروش

اب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس

تُو نے اک عمر سے بازو بھی نہیں پھیلائے

پھر بھی بانہوں کو ہے صدیوں کی تھکن کا احساس

Tuesday, 3 May 2022

جو دل میں کھٹکتی ہے کبھی کہہ بھی سکو گے

 جو دل میں کھٹکتی ہے کبھی کہہ بھی سکو گے

یا عمر بھر ایسے ہی پریشان پھرو گے

پتھر کی ہے دیوار تو سر پھوڑنا سیکھو

یہ حال رہے گا تو جیو گے نہ مرو گے

طوفان اٹھاؤ گے کبھی اپنے جہاں میں

یا آنکھ کے پانی ہی کو سیلاب کہو گے

Monday, 2 May 2022

ہزار موجۂ سیلاب پر خطر ہی سہی

 ہزار موجۂ سیلاب پُر خطر ہی سہی

جو ڈوبنا ہے تو پھر تیرے نام پر ہی سہی

کبھی یہاں بھی چمن تھا یہاں بھی رونق تھی

گزر رہے ہو تو اس سمت اک نظر ہی سہی

نہ منزلوں کو تمنا نہ راستوں کی خبر

نکل پڑے ہیں تو پھر کوئی رہگزر ہی سہی

Sunday, 1 May 2022

دل و دماغ میں احساس غم ابھار دیا

 دل و دماغ میں احساس غم ابھار دیا

یہ کس نے آج مجھے مژدۂ بہار دیا

تِرے جلو میں بڑھی ہے چمن کی شادابی

گلوں کا رنگ تِرے حسن نے نکھار دیا

ذرا لبوں کے تبسم سے بزم گرمائیں

ہمیں تو آپ کی آنکھوں کی چپ نے مار دیا

Wednesday, 27 April 2022

دریا کبھی اک حال میں بہتا نہ رہے گا

دریا کبھی اک حال میں بہتا نہ رہے گا

رہ جاؤں گا میں اور کوئی مجھ سا نہ رہے گا

اچھا ہے، نہ دیکھیں گے نہ محسوس کریں گے

آنکھیں نہ رہیں گی تو تماشا نہ رہے گا

وہ خاک اُڑے گی کہ نہ دیکھی نہ سُنی ہو

دیوانہ تو کیا چیز ہے صحرا نہ رہے گا

Friday, 22 April 2022

جس نے تری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی

 جس نے تِری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی 

وہ لاکھ کہے اس نے محبت نہیں دیکھی 

اک روپ مِرے خواب میں لہرا سا گیا تھا 

پھر دل میں کوئی چیز سلامت نہیں دیکھی 

آئینہ تجھے دیکھ کے گلنار ہوا تھا 

شاید تِری آنکھوں نے وہ رنگت نہیں دیکھی 

Friday, 25 March 2022

کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں

 کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں 

اب آپس میں کرنے والی اور بہت سی باتیں ہیں 

لذت اور یکتائی کا اک جھونکا آیا بیت گیا 

پھر سے اپنے اپنے دکھ ہیں اپنی اپنی ذاتیں ہیں 

قربت کی لذت جیسے بارش میں پتھر رکھا ہو 

اندر صحرا جیسا موسم اور باہر برساتیں ہیں 

Saturday, 31 October 2020

سانولی تو مرے پہلو میں ہے

 ان کہی


سانولی! تو مِرے پہلو میں ہے

لیکن تِری پیاسی آنکھیں

کبھی دیوار کو تکتی ہیں

کبھی جانب در دیکھتی ہیں

مجھ سے اس طرح گریزاں جیسے

Thursday, 29 October 2020

ہجر کی رات مری جاں پہ بنی ہو جیسے

 ہجر کی رات مِری جاں پہ بنی ہو جیسے

دل میں اک یاد کہ نیزے کی انی ہو جیسے

نہیں معلوم کہ میں کون ہوں منزل ہے کہاں

چادر خاک ہر اک سمت تنی ہو جیسے

اپنی آواز کو خود سن کے لرز جاتا ہوں

کسی سائے سے مِری ہم سخنی ہو جیسے

Monday, 26 October 2020

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

 چراغ خود ہی بجھایا، بجھا کے چھوڑ دیا

وہ غیر تھا، اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

ہزار چہرے ہیں موجود، آدمی غائب

یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتا

اسے گلے سے لگایا، لگا کے چھوڑ دیا

Sunday, 18 October 2020

یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہے کوئی رشتہ تجھ سے

یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہے کوئی رشتہ تجھ سے

جتنی امیدیں ہیں وابستہ ہیں تنہا تجھ سے

ہم نے پہلی ہی نظر میں تجھے پہچان لیا

مدتوں میں نہ ہوئے لوگ شناسا تجھ سے

شب تاریک فروزاں تِری خوشبو سے ہوئی

صبح کا رنگ ہوا اور بھی گہرا تجھ سے

Friday, 16 October 2020

ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں

 ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں

جن کو سنانا چاہتا ہوں، کب سنتے ہیں

اب بھی وہی دن رات ہیں لیکن فرق یہ ہے

پہلے بولا کرتے تھے، اب سنتے ہیں

شک اپنی ہی ذات پہ ہونے لگتا ہے

اپنی باتیں دوسروں سے جب سنتے ہیں

Friday, 2 October 2020

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

 پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے

میسر آ چکی ہے سربلندی، مڑ کے کیوں دیکھیں

امامت مل گئی ہم کو، تو امت چھوڑ دی ہم نے

کسے معلوم کیا ہو گا مآل آئندہ نسلوں کا؟

جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے

Friday, 25 September 2020

کہیں بھی سایہ نہیں کس طرف چلے کوئی

 کہیں بھی سایہ نہیں کس طرف چلے کوئی

درخت کاٹ گیا ہے ہرے بھرے کوئی

عجیب رُت ہے زباں ذائقے سے ہے محروم

تمام شہر ہی چپ ہو تو کیا کرے کوئی

ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم

چراغ بھی نہ جلائے چراغ سے کوئی

Thursday, 24 September 2020

کتنی بے نور تھی دن بھر نظر پروانہ

 کتنی بے نور تھی دن بھر نظرِ پروانہ

رات آئی تو ہوئی ہے سحر پروانہ

شمع جلتے ہی یہاں حشر کا منظر ہو گا

پھر کوئی پا نہ سکے گا خبر پروانہ

بجھ گئی شمع کٹی رات گئی سب محفل

اب اکیلے ہی کٹے گا سفر پروانہ

Wednesday, 23 September 2020

سکون کچھ تو ملا دل کا ماجرا لکھ کر

 سکون کچھ تو ملا دل کا ماجرا لکھ کر

لفافہ پھاڑ دیا پھر تِرا پتہ لکھ کر

سمجھ میں یہ نہیں آتا خطاب کیسے کروں

حروف کاٹ دئیے میں نے بارہا لکھ کر

قلم نے ٹوکا بھی دل کی صدا نے روکا بھی

مگر جو اس نے کہا، میں نے دے دیا لکھ کر

وہ ڈرتی ہے کہیں کوئی محبت ہی نہ کر بیٹھے

 اسی باعث زمانہ ہو گیا ہے اس کو گھر بیٹھے

وہ ڈرتی ہے کہیں کوئی محبت ہی نہ کر بیٹھے

ہمارا جرم یہ ہے ہم نے کیوں انصاف چاہا تھا

ہمارا فیصلہ کرنے کئی بے داد گر بیٹھے

میسر پھر نہ ہو گا چلچلاتی دھوپ میں چلنا

یہیں کے ہو رہو گے، سائے میں اک پَل اگر بیٹھے

Friday, 28 August 2020

اب نبھانی ہی پڑے گی دوستی جیسی بھی ہے

اب نبھانی ہی پڑے گی دوستی جیسی بھی ہے
آپ جیسے بھی ہیں نیت آپ کی جیسی بھی ہے
کھل چکی ہیں اس کے گھر کی کھڑکیاں میرے لیے
رخ مِری جانب رہے گا، بے رخی جیسی بھی ہے
چوٹیاں چھو کر گزرتے ہیں برستے کیوں نہیں
بادلوں کی ایک صورت آدمی جیسی بھی ہے

اب نہ وہ شور نہ وہ شور مچانے والے

اب نہ وہ شور نہ وہ شور مچانے والے
خاک سے بیٹھ گئے خاک اڑانے والے
یہ الگ بات میسر لبِ گویا نہ ہوا
دل میں وہ دھوم کہ سنتے ہیں زمانے والے
کسی منزل کی طرف کوئی قدم اٹھ نہ سکا
اپنے ہی پاؤں کی زنجیر تھے جانے والے