ہم اور ہوا
گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا
میری بھی تقدیر رہا ہے
تم نے بھی دُنیا دیکھی ہے
پھر بھی جب ہم ملتے ہیں
بچوں جیسی معصومی سے باتیں کرتے ہیں
تم کہتی ہو
ہم اور ہوا
گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا
میری بھی تقدیر رہا ہے
تم نے بھی دُنیا دیکھی ہے
پھر بھی جب ہم ملتے ہیں
بچوں جیسی معصومی سے باتیں کرتے ہیں
تم کہتی ہو
تنہائی کے بعد
جھانکتا ہے تِری آنکھوں سے زمانوں کا خلا
تیرے ہونٹوں پہ مسلط ہے بڑی دیر کی پیاس
تیرے سینے میں رہا شورِ بہاراں کا خروش
اب تو سانسوں میں نہ گرمی ہے نہ آواز نہ باس
تُو نے اک عمر سے بازو بھی نہیں پھیلائے
پھر بھی بانہوں کو ہے صدیوں کی تھکن کا احساس
جو دل میں کھٹکتی ہے کبھی کہہ بھی سکو گے
یا عمر بھر ایسے ہی پریشان پھرو گے
پتھر کی ہے دیوار تو سر پھوڑنا سیکھو
یہ حال رہے گا تو جیو گے نہ مرو گے
طوفان اٹھاؤ گے کبھی اپنے جہاں میں
یا آنکھ کے پانی ہی کو سیلاب کہو گے
ہزار موجۂ سیلاب پُر خطر ہی سہی
جو ڈوبنا ہے تو پھر تیرے نام پر ہی سہی
کبھی یہاں بھی چمن تھا یہاں بھی رونق تھی
گزر رہے ہو تو اس سمت اک نظر ہی سہی
نہ منزلوں کو تمنا نہ راستوں کی خبر
نکل پڑے ہیں تو پھر کوئی رہگزر ہی سہی
دل و دماغ میں احساس غم ابھار دیا
یہ کس نے آج مجھے مژدۂ بہار دیا
تِرے جلو میں بڑھی ہے چمن کی شادابی
گلوں کا رنگ تِرے حسن نے نکھار دیا
ذرا لبوں کے تبسم سے بزم گرمائیں
ہمیں تو آپ کی آنکھوں کی چپ نے مار دیا
دریا کبھی اک حال میں بہتا نہ رہے گا
رہ جاؤں گا میں اور کوئی مجھ سا نہ رہے گا
اچھا ہے، نہ دیکھیں گے نہ محسوس کریں گے
آنکھیں نہ رہیں گی تو تماشا نہ رہے گا
وہ خاک اُڑے گی کہ نہ دیکھی نہ سُنی ہو
دیوانہ تو کیا چیز ہے صحرا نہ رہے گا
جس نے تِری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی
وہ لاکھ کہے اس نے محبت نہیں دیکھی
اک روپ مِرے خواب میں لہرا سا گیا تھا
پھر دل میں کوئی چیز سلامت نہیں دیکھی
آئینہ تجھے دیکھ کے گلنار ہوا تھا
شاید تِری آنکھوں نے وہ رنگت نہیں دیکھی
کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں
اب آپس میں کرنے والی اور بہت سی باتیں ہیں
لذت اور یکتائی کا اک جھونکا آیا بیت گیا
پھر سے اپنے اپنے دکھ ہیں اپنی اپنی ذاتیں ہیں
قربت کی لذت جیسے بارش میں پتھر رکھا ہو
اندر صحرا جیسا موسم اور باہر برساتیں ہیں
ان کہی
سانولی! تو مِرے پہلو میں ہے
لیکن تِری پیاسی آنکھیں
کبھی دیوار کو تکتی ہیں
کبھی جانب در دیکھتی ہیں
مجھ سے اس طرح گریزاں جیسے
ہجر کی رات مِری جاں پہ بنی ہو جیسے
دل میں اک یاد کہ نیزے کی انی ہو جیسے
نہیں معلوم کہ میں کون ہوں منزل ہے کہاں
چادر خاک ہر اک سمت تنی ہو جیسے
اپنی آواز کو خود سن کے لرز جاتا ہوں
کسی سائے سے مِری ہم سخنی ہو جیسے
چراغ خود ہی بجھایا، بجھا کے چھوڑ دیا
وہ غیر تھا، اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
ہزار چہرے ہیں موجود، آدمی غائب
یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا
میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتا
اسے گلے سے لگایا، لگا کے چھوڑ دیا
یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہے کوئی رشتہ تجھ سے
جتنی امیدیں ہیں وابستہ ہیں تنہا تجھ سے
ہم نے پہلی ہی نظر میں تجھے پہچان لیا
مدتوں میں نہ ہوئے لوگ شناسا تجھ سے
شب تاریک فروزاں تِری خوشبو سے ہوئی
صبح کا رنگ ہوا اور بھی گہرا تجھ سے
ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں
جن کو سنانا چاہتا ہوں، کب سنتے ہیں
اب بھی وہی دن رات ہیں لیکن فرق یہ ہے
پہلے بولا کرتے تھے، اب سنتے ہیں
شک اپنی ہی ذات پہ ہونے لگتا ہے
اپنی باتیں دوسروں سے جب سنتے ہیں
پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے
معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے
میسر آ چکی ہے سربلندی، مڑ کے کیوں دیکھیں
امامت مل گئی ہم کو، تو امت چھوڑ دی ہم نے
کسے معلوم کیا ہو گا مآل آئندہ نسلوں کا؟
جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے
کہیں بھی سایہ نہیں کس طرف چلے کوئی
درخت کاٹ گیا ہے ہرے بھرے کوئی
عجیب رُت ہے زباں ذائقے سے ہے محروم
تمام شہر ہی چپ ہو تو کیا کرے کوئی
ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم
چراغ بھی نہ جلائے چراغ سے کوئی
کتنی بے نور تھی دن بھر نظرِ پروانہ
رات آئی تو ہوئی ہے سحر پروانہ
شمع جلتے ہی یہاں حشر کا منظر ہو گا
پھر کوئی پا نہ سکے گا خبر پروانہ
بجھ گئی شمع کٹی رات گئی سب محفل
اب اکیلے ہی کٹے گا سفر پروانہ
سکون کچھ تو ملا دل کا ماجرا لکھ کر
لفافہ پھاڑ دیا پھر تِرا پتہ لکھ کر
سمجھ میں یہ نہیں آتا خطاب کیسے کروں
حروف کاٹ دئیے میں نے بارہا لکھ کر
قلم نے ٹوکا بھی دل کی صدا نے روکا بھی
مگر جو اس نے کہا، میں نے دے دیا لکھ کر
اسی باعث زمانہ ہو گیا ہے اس کو گھر بیٹھے
وہ ڈرتی ہے کہیں کوئی محبت ہی نہ کر بیٹھے
ہمارا جرم یہ ہے ہم نے کیوں انصاف چاہا تھا
میسر پھر نہ ہو گا چلچلاتی دھوپ میں چلنا
یہیں کے ہو رہو گے، سائے میں اک پَل اگر بیٹھے