لوگ بے ہوش ہیں اس قوم کے بیدار کہاں
ہم کہاں رہ گئے جا پہنچے ہیں اغیار کہاں
اب وہ کنعان کہاں، مصر کا بازار کہاں
اب زلیخا سا ملے کوئی خریدار کہاں
میری اوقات کہاں ہے کہ تُو مِل جائے مجھے
میں کہاں اور تری ذات کا ایثار کہاں
لوگ بے ہوش ہیں اس قوم کے بیدار کہاں
ہم کہاں رہ گئے جا پہنچے ہیں اغیار کہاں
اب وہ کنعان کہاں، مصر کا بازار کہاں
اب زلیخا سا ملے کوئی خریدار کہاں
میری اوقات کہاں ہے کہ تُو مِل جائے مجھے
میں کہاں اور تری ذات کا ایثار کہاں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سحر بھی اپنے لہُو سے جگا رہے ہیں حسینؑ
خُدا کی راہ میں سر بھی کٹا رہے ہیں حسینؑ
بکھرتی فِسق کی تصویر ریگِ صحرا پر
زمانہ دیکھ رہا ہے، دِکھا رہے ہیں حسینؑ
فضائے کرب و بلا سے یہ آ رہی ہے صدا
وفا نِبھاتے ہیں کیسے، بتا رہے ہیں حسینؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بھیگی پلکیں جو رہِ حق میں بِچھاتے جاتے
دل میں ارماں بھی مدینے کے سجاتے جاتے
اسوۂ احمدﷺ مُرسلؑ کا تقاضا ہے یہی
عدل و انصاف کا معیار بڑھاتے جاتے
لفظ اقراء کا جو مضمون سمجھ آ جاتا
عِلم کی شمع اندھیروں میں جلاتے جاتے
زباں بندی ہو تو اِظہار ہوں میں
جہاں پر ظُلم ہو، اِنکار ہوں میں
ضرورت میں چھپا اخبار ہوں میں
بہت سُوں کے لیے بیکار ہوں میں
بِنا مطلب نہیں مِلتا کسی سے
بلا کا ان دنوں عیّار ہوں میں
وطن میں کوئی کہیں اک نشاں ہے تو سہی
جلا ہوا ہے مگر اک مکان ہے تو سہی
کبھی رُلاتی تو ہو گی تجھے بھی یاد میری
یقین مجھ کو نہیں پر گمان ہے تو سہی
زبان گنگ ہے کہنے سے کچھ قاصر ہے
پر آنکھ دل کی میرے ترجمان ہے تو سہی