Showing posts with label اشتیاق میر. Show all posts
Showing posts with label اشتیاق میر. Show all posts

Sunday, 11 February 2024

لوگ بے ہوش ہیں اس قوم کے بیدار کہاں

 لوگ بے ہوش ہیں اس قوم کے بیدار کہاں

ہم کہاں رہ گئے جا پہنچے ہیں اغیار کہاں

اب وہ کنعان کہاں، مصر کا بازار کہاں

اب زلیخا سا ملے کوئی خریدار کہاں

میری اوقات کہاں ہے کہ تُو مِل جائے مجھے

میں کہاں اور تری ذات کا ایثار کہاں

Friday, 2 February 2024

سحر بھی اپنے لہو سے جگا رہے ہیں حسین

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سحر بھی اپنے لہُو سے جگا رہے ہیں حسینؑ

خُدا کی راہ میں سر بھی کٹا رہے ہیں حسینؑ

بکھرتی فِسق کی تصویر ریگِ صحرا پر

زمانہ دیکھ رہا ہے، دِکھا رہے ہیں حسینؑ

فضائے کرب و بلا سے یہ آ رہی ہے صدا

وفا نِبھاتے ہیں کیسے، بتا رہے ہیں حسینؑ

Thursday, 1 February 2024

بھیگی پلکیں جو رہ حق میں بچھاتے جاتے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بھیگی پلکیں جو رہِ حق میں بِچھاتے جاتے

دل میں ارماں بھی مدینے کے سجاتے جاتے 

اسوۂ احمدﷺ مُرسلؑ کا تقاضا ہے یہی

عدل و انصاف کا معیار بڑھاتے جاتے

لفظ اقراء کا جو مضمون سمجھ آ جاتا

عِلم کی شمع اندھیروں میں جلاتے جاتے

Wednesday, 31 January 2024

زباں بندی ہو تو اظہار ہوں میں

 زباں بندی ہو تو اِظہار ہوں میں

جہاں پر ظُلم ہو، اِنکار ہوں میں

ضرورت میں چھپا اخبار ہوں میں

بہت سُوں کے لیے بیکار ہوں میں

بِنا مطلب نہیں مِلتا کسی سے

بلا کا ان دنوں عیّار ہوں میں

Sunday, 10 October 2021

وطن میں کوئی کہیں اک نشاں ہے تو سہی

 وطن میں کوئی کہیں اک نشاں ہے تو سہی

جلا ہوا ہے مگر اک مکان ہے تو سہی

کبھی رُلاتی تو ہو گی تجھے بھی یاد میری

یقین مجھ کو نہیں پر گمان ہے تو سہی

زبان گنگ ہے کہنے سے کچھ قاصر ہے

پر آنکھ دل کی میرے ترجمان ہے تو سہی