تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیں
سفر جاریِ، قدم ٹوٹے ہوئے ہیں
بظاہر تو ہیں سالم جسم و جاں سے
مگر اندر سے ہم ٹوٹے ہوئے ہیں
ادھورے ہیں یہاں سارے کے سارے
سبھی تو بیش و کم ٹوٹے ہوئے ہیں
تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیں
سفر جاریِ، قدم ٹوٹے ہوئے ہیں
بظاہر تو ہیں سالم جسم و جاں سے
مگر اندر سے ہم ٹوٹے ہوئے ہیں
ادھورے ہیں یہاں سارے کے سارے
سبھی تو بیش و کم ٹوٹے ہوئے ہیں
بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیں
وہ نہ آئے گا پھر بھی انتظار کرتے ہیں
لوگ اب محبت میں کاروبار کرتے ہیں
دل بچا کے رکھتے ہیں جاں شکار کرتے ہیں
عشرتیں جہاں بھر کی بس انہیں کا حصہ ہے
جو روش زمانے کی اختیار کرتے ہیں
کوئی ہمراہ نہیں راہ کی مشکل کے سوا
حاصلِ عمر بھی کیا ہے غمِ حاصل کے سوا
ایک سناٹا مسلط تھا گزر گاہوں پر
زندگی تھی بھی کہاں کوچۂ قاتل کے سوا
ہر قدم حادثے، ہر گام مراحل تھے یہاں
اپنے قدموں میں ہر اک شے رہی منزل کے سوا
خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئی
ان ہواؤں کو حبابوں میں نہ رکھے کوئی
چند لمحوں کا یہ جینا ہے، غنیمت جانو
زندگی اپنی عذابوں میں نہ رکھے کوئی
آج ہر فرد ہے اک حسرتِ تعبیر لیے
اب خیالات کو خوابوں میں نہ رکھے کوئی
تیر جیسے کمان سے نکلا
حرفِ حق تھا زبان سے نکلا
قیدِ ہستی سے چھُوٹنے والا
وقت کے امتحان سے نکلا
ٹِک نہ پایا ہوا کے جھونکوں میں
پر شکستہ اُڑان سے نکلا
آدمی کی حیات مُٹھی بھر
یعنی کل کائنات مٹھی بھر
ہاتھ بھر کا ہے دن بچھڑنے کا
اور ملنے کی رات مٹھی بھر
کیا کرو گے سمیٹ کر دنیا
ہے جو دنیا کا ساتھ مٹھی بھر
آپ اپنے کو معتبر کر لیں
ملنے والوں کے دل میں گھر کر لیں
زندگانی کے دن جو تھوڑے ہیں
کیوں نہ ہنس بول کر بسر کر لیں
چُن رہے ہیں جو عیب اوروں کے
اپنے دامن پہ بھی نظر کر لیں