Showing posts with label غنی اعجاز. Show all posts
Showing posts with label غنی اعجاز. Show all posts

Thursday, 12 August 2021

تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیں

 تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیں

سفر جاریِ، قدم ٹوٹے ہوئے ہیں

بظاہر تو ہیں سالم جسم و جاں سے

مگر اندر سے ہم ٹوٹے ہوئے ہیں

ادھورے ہیں یہاں سارے کے سارے

سبھی تو بیش و کم ٹوٹے ہوئے ہیں

Monday, 21 June 2021

بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیں

 بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیں

وہ نہ آئے گا پھر بھی انتظار کرتے ہیں

لوگ اب محبت میں کاروبار کرتے ہیں

دل بچا کے رکھتے ہیں جاں شکار کرتے ہیں

عشرتیں جہاں بھر کی بس انہیں کا حصہ ہے

جو روش زمانے کی اختیار کرتے ہیں

Sunday, 6 June 2021

کوئی ہمراہ نہیں راہ کی مشکل کے سوا

 کوئی ہمراہ نہیں راہ کی مشکل کے سوا

حاصلِ عمر بھی کیا ہے غمِ حاصل کے سوا

ایک سناٹا مسلط تھا گزر گاہوں پر

زندگی تھی بھی کہاں کوچۂ قاتل کے سوا

ہر قدم حادثے، ہر گام مراحل تھے یہاں

اپنے قدموں میں ہر اک شے رہی منزل کے سوا

خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئی

 خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئی

ان ہواؤں کو حبابوں میں نہ رکھے کوئی

چند لمحوں کا یہ جینا ہے، غنیمت جانو

زندگی اپنی عذابوں میں نہ رکھے کوئی

آج ہر فرد ہے اک حسرتِ تعبیر لیے

اب خیالات کو خوابوں میں نہ رکھے کوئی

Wednesday, 5 May 2021

تیر جیسے کمان سے نکلا

 تیر جیسے کمان سے نکلا

حرفِ حق تھا زبان سے نکلا

قیدِ ہستی سے چھُوٹنے والا

وقت کے امتحان سے نکلا

ٹِک نہ پایا ہوا کے جھونکوں میں

پر شکستہ اُڑان سے نکلا

Monday, 3 May 2021

آدمی کی حیات مٹھی بھر

 آدمی کی حیات مُٹھی بھر

یعنی کل کائنات مٹھی بھر

ہاتھ بھر کا ہے دن بچھڑنے کا

اور ملنے کی رات مٹھی بھر

کیا کرو گے سمیٹ کر دنیا

ہے جو دنیا کا ساتھ مٹھی بھر

Friday, 23 April 2021

آپ اپنے کو معتبر کر لیں

 آپ اپنے کو معتبر کر لیں

ملنے والوں کے دل میں گھر کر لیں

زندگانی کے دن جو تھوڑے ہیں

کیوں نہ ہنس بول کر بسر کر لیں

چُن رہے ہیں جو عیب اوروں کے

اپنے دامن پہ بھی نظر کر لیں