Sunday, 6 June 2021

خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئی

 خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئی

ان ہواؤں کو حبابوں میں نہ رکھے کوئی

چند لمحوں کا یہ جینا ہے، غنیمت جانو

زندگی اپنی عذابوں میں نہ رکھے کوئی

آج ہر فرد ہے اک حسرتِ تعبیر لیے

اب خیالات کو خوابوں میں نہ رکھے کوئی

کام تحقیق کے عنواں پہ بڑھے گا کیسے

گر سوالوں کو جوابوں میں نہ رکھے کوئی

یہ بھی کیا ضد ہے کہ کانٹوں کو مہکنے دیجے

یعنی خُوشبو کو گُلابوں میں نہ رکھے کوئی

نیکیاں کتنی ہیں اعجاز حصارِ دل میں؟

خوبیاں ہوں تو خرابوں میں نہ رکھے کوئی


غنی اعجاز

No comments:

Post a Comment