Sunday, 6 June 2021

بہاروں کو چمن یاد آ گیا ہے

 بہاروں کو چمن یاد آ گیا ہے

مجھے وہ گلبدن یاد آ گیا ہے

لچکتی شاخ نے جب سر اٹھایا

کسی کا بانکپن یاد آ گیا ہے

مِری خاموشیوں پر ہنسنے والو

مجھے وہ کم سخن یاد آ گیا ہے

تمہیں مل کر تو اے یزداں پرستو

غرور اہرمن یاد آ گیا ہے

تِری صورت کو جب دیکھا ہے میں نے

عروج فکر و فن یاد آ گیا ہے

کسی کا خوبصورت شعر سن کر

تِرا لطف سخن یاد آ گیا ہے

ملے وہ اجنبی بن کر تو رفعت

زمانے کا چلن یاد آ گیا ہے


رفعت سلطان

No comments:

Post a Comment