سلوک دوست سے بیزار کیا ہُوا ہوں میں
خیال یہ ہے بُلندی سے گِر گیا ہوں میں
محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے
یہ رُخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں
مِرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی
نوائے وقت ہوں، اک درد کی صدا ہوں میں
سلوک دوست سے بیزار کیا ہُوا ہوں میں
خیال یہ ہے بُلندی سے گِر گیا ہوں میں
محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے
یہ رُخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں
مِرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی
نوائے وقت ہوں، اک درد کی صدا ہوں میں
دلوں میں جذبۂ نفرت ہے کیا کیا جائے
زباں پہ دعویٔ الفت ہے کیا کیا جائے
ہزار قسم کے الزام سن کے بھی چپ ہیں
ہمارا جرم شرافت ہے کیا کیا جائے
نہ دشمنوں سے عداوت نہ دوستوں کا لحاظ
اسی کا نام صداقت ہے کیا کیا جائے
جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسے
بات بن جائے، مگر بات بنائیں کیسے
اپنی روداد غم عشق سنائیں کیسے
ان سے وابستہ ہیں حالات بتائیں کیسے
لوگ چہرے سے سمجھ لیتے ہیں دل کی حالت
اب تِرا راز چھپائیں تو چھپائیں کیسے
حصار حفظ جاں کوئی نہیں ہے
ہے کشتی بادباں کوئی نہیں ہے
جہاں تک میں گیا راہ طلب میں
وہاں تک سائباں کوئی نہیں ہے
کچھ ایسی ذہنیت کے لوگ بھی ہیں
جہاں وہ ہیں وہاں کوئی نہیں ہے