Showing posts with label رفیق بدایونی. Show all posts
Showing posts with label رفیق بدایونی. Show all posts

Sunday, 31 May 2026

سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں

 سلوک دوست سے بیزار کیا ہُوا ہوں میں

خیال یہ ہے بُلندی سے گِر گیا ہوں میں

محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے

یہ رُخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں

مِرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی

نوائے وقت ہوں، اک درد کی صدا ہوں میں

Friday, 2 May 2025

دلوں میں جذبۂ نفرت ہے کیا کیا جائے

 دلوں میں جذبۂ نفرت ہے کیا کیا جائے

زباں پہ دعویٔ الفت ہے کیا کیا جائے

ہزار قسم کے الزام سن کے بھی چپ ہیں

ہمارا جرم شرافت ہے کیا کیا جائے

نہ دشمنوں سے عداوت نہ دوستوں کا لحاظ

اسی کا نام صداقت ہے کیا کیا جائے

Friday, 21 May 2021

جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسے

جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسے

بات بن جائے، مگر بات بنائیں کیسے

اپنی روداد غم عشق سنائیں کیسے

ان سے وابستہ ہیں حالات بتائیں کیسے

لوگ چہرے سے سمجھ لیتے ہیں دل کی حالت

اب تِرا راز چھپائیں تو چھپائیں کیسے

Wednesday, 24 March 2021

حصار حفظ جاں کوئی نہیں ہے

حصار حفظ جاں کوئی نہیں ہے

ہے کشتی بادباں کوئی نہیں ہے

جہاں تک میں گیا راہ طلب میں

وہاں تک سائباں کوئی نہیں ہے

کچھ ایسی ذہنیت کے لوگ بھی ہیں

جہاں وہ ہیں وہاں کوئی نہیں ہے