Sunday, 31 May 2026

سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں

 سلوک دوست سے بیزار کیا ہُوا ہوں میں

خیال یہ ہے بُلندی سے گِر گیا ہوں میں

محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے

یہ رُخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں

مِرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی

نوائے وقت ہوں، اک درد کی صدا ہوں میں

شکایتوں میں گنوانے سے اس کو کیا حاصل

ذرا سا وقت مِلا ہے تو آ گیا ہوں میں

رہِ حیات کے ہر موڑ پر یہ لگتا ہے

فریب کار کی باتوں میں آ گیا ہوں میں

اب اپنی زیست کی تپتی ہوئی سی راہوں پر

کسی درخت کے سائے کو ڈھونڈتا ہوں میں

مجھے یہ طرز تجاہل عجیب لگتا ہے

وہ کہہ رہے ہیں کہیں آپ سے مِلا ہوں میں


رفیق بدایونی

No comments:

Post a Comment