Saturday, 30 May 2026

خوشبوؤں کی امین ہے اے دوست

 خوشبوؤں کی امین ہے اے دوست

تُو گُلِ یاسمین ہے اے دوست

پھول بن کر مہک اٹھے ہیں زخم

درد کتنا حسین ہے اے دوست

میرے لب ہیں جبینِ جاناں پر

یہ تصور کا سین ہے اے دوست

عاشقی قیس کی عبادت ہے

عشق عاشق کا دین ہے اے دوست

حسن کی خامشی سمجھتا ہے

عشق کتنا ذہین ہے اے دوست

اف ترے شعر ہیں کہ کیا سرور

تُو بڑا دوربین ہے اے دوست


رفیق سرور

No comments:

Post a Comment