جینا مُحال، مرنا بھی دُشوار ہو گیا
جب سے یہ جانا میں نے مجھے پیار ہو گیا
کچھ تُو نے اپنا واسطہ دے کر منا لیا
کچھ اپنے دل سے میں بھی تو لاچار ہو گیا
تیرے خیالوں میں لیے بیٹھا تھا میں قلم
غزلوں کا ایک ذہن میں گُلزار ہو گیا
جب تک رہا وہ دل میں تو اقرار تھا بہت
کیسے وہ لب پہ آتے ہی انکار ہو گیا
جانا پڑا تھا کل مجھے دُشمن کے کُوچے میں
کچھ دوستوں سے بھی وہاں دو چار ہو گیا
جب بھی لیا ہے دل سے میں مُشکل کُشا کا نام
دُشوار راستہ بھی تو ہموار ہو گیا
ساگر اکبرآبادی
No comments:
Post a Comment