Thursday, 28 May 2026

غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے

 غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے

دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے

جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں

غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے

میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے

مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے

جہتوں کے برزخ میں پاؤں الجھ جاتے ہیں

رستے میں سانسوں کا راستا کیوں آتا ہے

سات فلک کیوں ڈھلتے ہیں آنسو میں میرے

پانی کی تشکیل میں صحرا کیوں آتا ہے

میں جب ایک ہیولیٰ ہوں نفی کا تو پھر

ہر چہرے میں میرا چہرہ کیوں آتا ہے


ریاض لطیف

No comments:

Post a Comment