لوگ مِلتے ہیں گلے یوں دلِ بیزار کے ساتھ
جیسے دیوار مِلی ہو کسی دیوار کے ساتھ
شہر میں کچھ تو ہیں اس بات پہ دُشمن میرے
اس کی دیوار ملی ہے مِری دیوار کے ساتھ
چھت کے بارے میں بھی ہم سوچ ہی لیتے شاید
ایک دیوار ہی بن جاتی جو دیوار کے ساتھ
اس کا در کُھلنے ہی والا ہے یہی سوچ کے ہم
کب سے دیوار بنے بیٹھے ہیں دیوار کے ساتھ
یوں سہارا مجھے دیتا ہے تصور اس کا
جیسے دیوار ہو گرتی ہوئی دیوار کے ساتھ
لوگ ظالم ہیں جو فیاض یہاں بیٹی کو
کہہ کے دیوار ہی چُن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ
فیاض فاروقی
No comments:
Post a Comment