Friday, 15 May 2026

خلاف مصلحت عشق چل کے دیکھیں گے

 خلاف مصلحتِ عشق چل کے دیکھیں گے

اس آگ میں بھی کسی روز جل کے دیکھیں گے

رہِ وفا میں یہ جس دن بھی کامیاب آیا

تو آدمی کو فرشتے نکل کے دیکھیں گے

تِری ہنسی سے فقط آنسوؤں کو کیا بدلیں

بدل سکے تو مقدر بدل کے دیکھیں گے

میں کس کا ہو کے رہوں گا بھلا زمانے میں

اگر جناب بھی تیور بدل کے دیکھیں گے

ڈبونے والے ذرا اس سے ہوشیار رہیں

ابھی یہ ڈوبنے والے اچھل کے دیکھیں گے

ٹھہر ٹھہر، ارے او انقلابِ وقت ٹھہر

ہم اور اک نئی کروٹ بدل کے دیکھیں گے

حقیر جان کے جو دیکھتے ہیں اے شاکر

وہ ایک روز ہمیں ہاتھ مل کے دیکھیں گے


سلطان شاکر ہاشمی

No comments:

Post a Comment