Sunday, 10 May 2026

جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے

 جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے

سچ کہنا کس نے تجھ کو بہکایا ہے

رات گئے آہٹ سن کر کیوں دھڑکا ہے

اے میرے دل ایسا کیا یاد آیا ہے

سچا ہے تو ڈر کیسا ہے کھل کر بول

آئینے کو دیکھ کے کیوں شرمایا ہے

مانگ رہا ہے مجھ سے مجھ کو وہ کچھ یوں

ہر جملے میں دھمکی کا رنگ آیا ہے

ظلم کو ہی انصاف کہا جائے اب سے

راج محل سے یہ سندیسہ آیا ہے

جنگل میں اب اس کا کیا تھا سو تھک کر

آج پرندہ پنجرے میں لوٹ آیا ہے


شرافت سمیر

No comments:

Post a Comment