جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے
سچ کہنا کس نے تجھ کو بہکایا ہے
رات گئے آہٹ سن کر کیوں دھڑکا ہے
اے میرے دل ایسا کیا یاد آیا ہے
سچا ہے تو ڈر کیسا ہے کھل کر بول
آئینے کو دیکھ کے کیوں شرمایا ہے
مانگ رہا ہے مجھ سے مجھ کو وہ کچھ یوں
ہر جملے میں دھمکی کا رنگ آیا ہے
ظلم کو ہی انصاف کہا جائے اب سے
راج محل سے یہ سندیسہ آیا ہے
جنگل میں اب اس کا کیا تھا سو تھک کر
آج پرندہ پنجرے میں لوٹ آیا ہے
شرافت سمیر
No comments:
Post a Comment