Saturday, 9 May 2026

چل دئیے بزم سے جانے کا اشارہ جو ہوا

 چل دئیے بزم سے جانے کا اِشارہ جو ہوا

ہم سے ٹالا نہ گیا،۔ حکم تمہارا جو ہوا

تم نہ سمجھو گے جدائی کی اذیت کو ابھی

تم کو اغیار کی بانہوں کا سہارا جو ہوا

عشق میں حرفِ مُکرر کا میں قائل تو نہیں

تم ہی سے ہو گا یہ بالفرض دوبارہ جو ہوا

ہم تصوّف و عبادت سے ہیں کیوں دور کھڑے

داڑھی والوں کا محمدﷺ پہ اجارہ جو ہوا

آفتی فوج کے غُنڈوں سے شناسائی بڑھی

ہم کو اِک شخص مَحبت میں گوارہ جو ہوا

اب کے لوگوں کو تجارت پہ بھروسہ ہی نہیں

پہلے سودے میں بڑا سب کا خسارہ جو ہوا

چین غرقاب ہوا، اور الم اچھے لگے

اپنا اِک اشک مَحبت میں سِتارہ جو ہو


شعیب شوبی

No comments:

Post a Comment