محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں
قیامتوں کے وہاں امتحاں گزرتے ہیں
یقیں کی منزلِ مقصود عشق کا مطلوب
ہوس کی راہ سے تو بس گماں گزرتے ہیں
اسی فراق کے لحظے میں رک گیا جیون
تمہارے ہجر کے لمحے کہاں گزرتے ہیں
محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں
قیامتوں کے وہاں امتحاں گزرتے ہیں
یقیں کی منزلِ مقصود عشق کا مطلوب
ہوس کی راہ سے تو بس گماں گزرتے ہیں
اسی فراق کے لحظے میں رک گیا جیون
تمہارے ہجر کے لمحے کہاں گزرتے ہیں
اپنی تو یونہی ہجر میں جلتے ہُوئے گُزری
جیسے کسی درویش کی چلتے ہوئے گزری
اک بار جو خُورشید نے کی دن سے بغاوت
پھر تا بہ ابد اس کی بھی ڈھلتے ہوئے گزری
ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ ایسا ہی لکھا تھا
ہاتھوں کو تمام عمر ہی مَلتے ہوئے گزری
رات بھر انتظار کرتا رہا
یاد میں بار بار کرتا رہا
میرا آنگن رہا سدا تاریک
اس کا روشن دیار کرتا رہا
نفرتیں دفن کر کے سینے میں
میں ہمیشہ ہی پیار کرتا رہا
ہوں جب سے میں چاہت میں گرفتار وغیرہ
بھاتے نہیں دروازہ و دیوار وغیرہ
وحشت کا یہ عالم ہے کہ اب تو مجھے اکثر
لگتے ہیں برے اپنے ہی گھر بار وغیرہ
ہر بزم تِرے نام سے موسوم رہی ہے
دیں گے یہ گواہی بھی مِرے یار وغیرہ