Showing posts with label عاطف بٹ. Show all posts
Showing posts with label عاطف بٹ. Show all posts

Wednesday, 21 February 2024

محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں

 محبتوں کے جہاں کارواں گزرتے ہیں

قیامتوں کے وہاں امتحاں گزرتے ہیں

یقیں کی منزلِ مقصود عشق کا مطلوب

ہوس کی راہ سے تو بس گماں گزرتے ہیں

اسی فراق کے لحظے میں رک گیا جیون

تمہارے ہجر کے لمحے کہاں گزرتے ہیں

Wednesday, 24 January 2024

اپنی تو یونہی ہجر میں جلتے ہوئے گزری

 اپنی تو یونہی ہجر میں جلتے ہُوئے گُزری​

جیسے کسی درویش کی چلتے ہوئے گزری​

اک بار جو خُورشید نے کی دن سے بغاوت​

پھر تا بہ ابد اس کی بھی ڈھلتے ہوئے گزری​

ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ ایسا ہی لکھا تھا​

ہاتھوں کو تمام عمر ہی مَلتے ہوئے گزری

Wednesday, 22 December 2021

رات بھر انتظار کرتا رہا

 رات بھر انتظار کرتا رہا​

یاد میں بار بار کرتا رہا​

میرا آنگن رہا سدا تاریک​

اس کا روشن دیار کرتا رہا​

نفرتیں دفن کر کے سینے میں​

میں ہمیشہ ہی پیار کرتا رہا

Sunday, 15 August 2021

ہوں جب سے میں چاہت میں گرفتار وغیرہ

 ہوں جب سے میں چاہت میں گرفتار وغیرہ

بھاتے نہیں دروازہ و دیوار وغیرہ

وحشت کا یہ عالم ہے کہ اب تو مجھے اکثر

لگتے ہیں برے اپنے ہی گھر بار وغیرہ

ہر بزم تِرے نام سے موسوم رہی ہے

دیں گے یہ گواہی بھی مِرے یار وغیرہ