Sunday, 15 August 2021

ہوں جب سے میں چاہت میں گرفتار وغیرہ

 ہوں جب سے میں چاہت میں گرفتار وغیرہ

بھاتے نہیں دروازہ و دیوار وغیرہ

وحشت کا یہ عالم ہے کہ اب تو مجھے اکثر

لگتے ہیں برے اپنے ہی گھر بار وغیرہ

ہر بزم تِرے نام سے موسوم رہی ہے

دیں گے یہ گواہی بھی مِرے یار وغیرہ

میں دور کھڑا دیکھ رہا ہوں یہ تماشا

محفل میں تِری بیٹھے ہیں اغیار وغیرہ

میں ماننے والا ہوں حسین ابنِ علی کا

خاطر میں کہاں لاتا ہوں دربار وغیرہ

پہچان مِری ایک سی رہتی ہے ہمیشہ

گفتار وغیرہ ہو کہ کردار وغیرہ

یا رب وہ چلے آتے ہیں شمشیر بکف کیوں

اچھے نہیں لگتے ہیں کچھ اطوار وغیرہ

ہر روپ میں وہ شوخ نرالا ہے جہاں سے

لگتی ہے مِری جاں گل و گلزار وغیرہ

اس عشق کی بازی میں سبھی جان سے ہارے

فرہاد ہو یا عاطفِ بیمار وغیرہ​


عاطف خالد بٹ

No comments:

Post a Comment