قیس بے کل کی طرف بھاگ رہے تھے پاگل
یعنی، پاگل کی طرف بھاگ رہے تھے پاگل
تم نے بے کار ہمیں روک لیا ہے، ہم تو
اپنے سانول کی طرف بھاگ رہے تھے پاگل
ایک درویش بلاتا تھا کہ؛ سونا لے لو
اور پیتل کی طرف بھاگ رہے تھے پاگل
آگ کا شور مکانوں سے اٹھا تھا، لیکن
لوگ جنگل کی طرف بھاگ رہے تھے پاگل
ڈھیر پیاسے تھے، سمندر کی طرف پُشتیں تھیں
تیری چھاگل کی طرف بھاگ رہے تھے پاگل
ساز و آواز کا سامان وہیں چھوڑ کے سب
تیری پائل کی طرف بھاگ رہے تھے، پاگل
رنگ و انواع کے مشروب دھرے تھے پھر بھی
ایک بوتل کی طرف بھاگ رہے تھے پاگل
وہ حسیب آپ کے اک دوست نہیں ہیں تحسین
نور پور تھل کی طرف بھاگ رہے تھے پاگل
یونس تحسین
No comments:
Post a Comment