Showing posts with label عباس ثاقب. Show all posts
Showing posts with label عباس ثاقب. Show all posts

Tuesday, 13 August 2024

شعر میں آنے لگے گی تازگی یعنی علی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شعر میں آنے لگے گی تازگی یعنی علیؑ

جب ملے گی آگہی کو روشنی یعنی علیؑ

عرش کی جانب روانہ کر دیا میں نے خیال

اب فرشتے بھی کریں گے شاعری یعنی علیؑ

اُس طرف ’لَو لَا‘ کا نعرہ اور ’سَلُونِی‘ اِس طرف

ہم نے پایا ہے فرازِ آگہی، یعنی علیؑ

Friday, 13 October 2023

اب کہ ہم بچھڑے تو شاید کبھی ڈھابوں میں ملیں

(زعفرانی غزل (تضمین


اب کہ ہم بچھڑے تو شاید کبھی ڈھابوں میں ملیں

جیسے کچھ پُوڈری ہر روز خرابوں میں ملیں

میں نے پیپسی میں ملائی ہے، ذرا سی سپرائٹ

نشہ بڑھتا ہے نوشابے جو نوشابوں میں ملیں

ڈھونڈ مت بیڈ کی درازوں میں چُھپائے پیسے

یہ خزانے تجھے ممکن ہے جُرابوں میں ملیں

Monday, 18 April 2022

میں ہر محاذ پہ ہر زاویے سے بڑھ کر تھا

 میں ہر محاذ پہ ہر زاویے سے بڑھ کر تھا

مگر یہ ہجر مرے حوصلے سے بڑھ کر تھا

شریکِ سازشِ شب بام و در بھی تھے، ورنہ

ہوا کا زور کہاں اس دِیے سے بڑھ کر تھا

سفر میں ہاتھ جھٹکنا تِرے لیے نہ سہی

مِرے لیے تو کسی سانحے سے بڑھ کر تھا

Sunday, 20 March 2022

زندگی یوں بھی ترے در سے اٹھائے گئے ہم

 زندگی یوں بھی تِرے در سے اٹھائے گئے ہم

ایک افسانہ ہوئے،۔ اور بُھلائے گئے ہم

قصۂ شوق تھے اوروں کو سنائے گئے ہم

نغمۂ درد تھے ہر بزم میں گائے گئے ہم

اپنے اندر کی تپش نے ہمیں بجھنے نہ دیا

جل اٹھے اور بھی جس وقت بجھائے گئے ہم

Saturday, 5 March 2022

خود منظر تخلیق کروں گا خود اس میں کھو جاؤں گا

 خود منظر تخلیق کروں گا خود اس میں کھو جاؤں گا

تیرے بعد اب ایسے اپنے آپ میں گم ہو جاؤں گا

مجھ کو پاگل کہنے والے یاروں کو معلوم نہیں

گھر کا رستہ یاد ہے مجھ کو شام ڈھلی تو جاؤں گا

بھولی بسری یادوں والی وحشت آن جھنجھوڑے گی

اٹھ کر اک انجانے خوف کے پہلو میں سو جاؤں گا

Wednesday, 23 February 2022

تم بلیک میلر ہو

تم بلیک میلر ہو


تم بلیک میلر ہو 

اس بلا کی سردی میں

اپنے اپنے پیاروں کی میتوں کو

سڑکوں پر رکھ کے

بین کرتے ہو

Thursday, 17 February 2022

ہم بھی جائیں گے بلاوا اگر آ جائے تو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہم بھی جائیں گے بلاوہ اگر آ جائے تو

کوئی خوشبو کوئی پیغام ہوا لائے تو

میں نے دریائے مؤدّت سے اسے سینچا ہے

اب یہ گلشن مِرے ادراک کا مُرجھائے تو

آسماں بھی اسے پہلو میں دکھائی دے گا

تِرےؐ بستر پہ گھڑی بھر کوئی سو جائے تو

Wednesday, 16 February 2022

لو چھوڑ کر چلے گئے آدھے سفر کے لوگ

لو، چھوڑ کر چلے گئے آدھے سفر کے لوگ

میں تو سمجھ رہا تھا انہیں عمر بھر کے لوگ

چہرے پہ جم گئی ہے گزشتہ دنوں کی دھول

حیرت سے دیکھتے ہیں مجھے اپنے گھر کے لوگ

اڑنے لگی جو ڈار پرندوں کی، ڈال سے

غم بانٹنے کو آ گئے بوڑھے شجر کے، لوگ

Tuesday, 15 February 2022

خیر الوریٰ کا سارا گھرانہ اداس ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام منقبت سلام


خیر الوریٰﷺ کا سارا گھرانہ اُداس ہے

مسجد تڑپ رہی ہے تو کعبہ اداس ہے

زنداں سے اٹھ گئی ہے عبادت کی روشنی

رنجور ہے نماز،۔ تو سجدہ اداس ہے

مرقد سے آ رہی ہے یہ آوازِ مصطفیٰؐ

لوگو! مِرے وجود کا حصہ اداس ہے

Monday, 14 February 2022

بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہم

 بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہم

صحراؤں کے سینوں پر گلزاروں جیسے ہم

روز اک ٹکڑا لے جاتی ہے آندھی اپنے ساتھ

گرتی پڑتی مٹی کی دیواروں جیسے ہم

وحشت کے ماحول میں اپنا انت کسے معلوم

بے انجام کہانی کے کرداروں جیسے ہم

Sunday, 13 February 2022

نبی کے ساتھ علی کا بھی دھیان رکھتے ہیں

 نبیؐ کے ساتھ علی کا بھی دھیان رکھتے ہیں

ہم ایسے گیانی ہیں جو شدھ گیان رکھتے ہیں

قدم قدم پہ یہ اٹھتے ہیں یا علی کہہ کر

ہمارے بچے کچھ ایسی اٹھان رکھتے ہیں

ارادتاً تو نہیں فطرتاً ہی پہنچیں گے

کہ ہم غدیر کی جانب ڈھلان رکھتے ہیں

Monday, 20 September 2021

ہوا کے ساتھ چلا ہوں مجھے چراغ نہ دے

 ہوا کے ساتھ چلا ہوں مجھے چراغ نہ دے

میں روشنی میں بسا ہوں مجھےچراغ نہ دے

چراغ بانٹنے والوں سے نسبتیں، لیکن

عیارِ شب پہ تلا ہوں مجھے چراغ نہ دے

ہوائے ظلم کے طوفان کی لپیٹوں میں

فصیلِ شب پہ کھڑا ہوں مجھے چراغ نہ دے