Sunday, 13 February 2022

نبی کے ساتھ علی کا بھی دھیان رکھتے ہیں

 نبیؐ کے ساتھ علی کا بھی دھیان رکھتے ہیں

ہم ایسے گیانی ہیں جو شدھ گیان رکھتے ہیں

قدم قدم پہ یہ اٹھتے ہیں یا علی کہہ کر

ہمارے بچے کچھ ایسی اٹھان رکھتے ہیں

ارادتاً تو نہیں فطرتاً ہی پہنچیں گے

کہ ہم غدیر کی جانب ڈھلان رکھتے ہیں

پروں میں لمس غدیری ہوا کا رہتا ہے

ہم آسماں سے بھی اونچی اڑان رکھتے ہیں

علی کا ذکر تو گونگوں کے بس کی بات نہیں

وہی کریں گے جو منہ میں زبان رکھتے ہیں

سنبھالتے ہیں ولایت کے پھول ہم ایسے

خیال کھیت کا جیسے کسان رکھتے ہیں

لہو اگلتے ہیں دشمن علی کے ذکر سے یوں

کہ جیسے منہ میں بنارس کا پان رکھتے ہیں

نبیؐ کا عشق بھی ہے اور علی کی الفت بھی

ہم اس جہان میں دونوں جہان رکھتے ہیں

چلے ہی آئیں گے شاید علی بھی میثم بھی

دیارِ عشق میں ہم بھی دکان رکھتے ہیں

غدیرِ خم میں گھلی روشنائی سے ثاقب

قلم کے جسم کو ہر دم جوان رکھتے ہیں


عباس ثاقب

No comments:

Post a Comment