ساتھ ہونا بھی تِرا جُھوٹا دلاسا ہے مجھے
میں سمجھتا ہوں کہ لفظوں سے بہلنا ہے مجھے
کیوں سنبھالوں جو یہ کہتے ہو سنبھالو خود کو
جب تِرا غیر کا ہونا بھی گوارا ہے مجھے
تُو اترتا ہی نہیں دل سے ابھی تک میرے
تُو نے کس طرح خدا جانے بھلایا ہے مجھے
اب نہیں سوچ زمانے کی بھلے جو سوچے
اب تو دیوار سے غم تیرا لگاتا ہے مجھے
دم ہی لینے نہ دیا مجھ کو تِری چاہت نے
در بہ در ساتھ یوں ہی اپنے چلایا ہے مجھے
دیکھتا ہوں میں کئی اڑتے پرندے دن بھر
شام ہوتی ہے تو پھر پنجرہ ستاتا ہے مجھے
جب بھی آئے گی بہاروں پہ جوانی رامز
تیری یادوں میں گلابوں سا بکھرنا ہے مجھے
رامز ہاشمی
عبدالسلام
No comments:
Post a Comment