سانس میں اشک گُھلے، آہوں میں تبدیل ہوئے
مختصر خود کو کِیا ایسے کہ تفصیل ہوئے
خاص رحمت ہے، مِری ذات میں ترسیل ہوئے
ان سے ہوتے ہی قریں، حاصلِ انجیل ہوئے
یوں تِرے حسن کو ترتیب میں لایا ہے خدا
وقفے وقفے سے تِرے خال بھی تشکیل ہوئے
ایک مدت سے نظر آئی نہیں زلف گھٹا
اور اک عرصہ ہوا آنکھ کوئی جھیل ہوئے
پھر سے گستاخ قبیلے نے کتب خانے بھرے
پھر بہائے گا کوئی صدیاں ہوئیں نیل ہوئے
دستبردار بھی پھر بعد میں تم ہی ہوئے تھے
ورنہ وہ حکم سبھی ہم سے تو تعمیل ہوئے
اس کے گھر جانے کو بس پہلا قدم اٹھنا تھا
کتنی آسانی سے طے سینکڑوں پھر میل ہوئے
نشاط عبیر
No comments:
Post a Comment