Sunday, 13 February 2022

آج کچھ دل اداس اور ہی ہے

 آج کچھ دل اداس اور ہی ہے

جا بجا ہی نراس اور ہی ہے

میری سانسوں میں سانس ہے جس سے

اس کی سانسوں کی باس اور ہی ہے

لوگ جینے کی آرزو رکھیں

موت سے ہم کو، آس اور ہی ہے

جو نہ ہوں مضمحل تو کچھ مانگوں

چھوڑیئے، التماس اور ہی ہے

کیا عجب دیکھیۓ کہ عالم کو

ماسوا حق کے، راس اور ہی ہے

ہم کو محبوب قرب ہے ان کا

ان کے پر، آس پاس اور ہی ہے

کوئی کب غرض ہم کو خوشیوں سے

قلب مضطر کی پیاس اور ہی ہے

ہو طرب آپ کو مبارک، خیر

پر مجھے درد راس اور ہی ہے

ساجدہ! بارشوں کا اور ہے غم

میرے دل کی بھڑاس اور ہی ہے


ساجدہ انور

No comments:

Post a Comment