آج کچھ دل اداس اور ہی ہے
جا بجا ہی نراس اور ہی ہے
میری سانسوں میں سانس ہے جس سے
اس کی سانسوں کی باس اور ہی ہے
لوگ جینے کی آرزو رکھیں
موت سے ہم کو، آس اور ہی ہے
جو نہ ہوں مضمحل تو کچھ مانگوں
چھوڑیئے، التماس اور ہی ہے
کیا عجب دیکھیۓ کہ عالم کو
ماسوا حق کے، راس اور ہی ہے
ہم کو محبوب قرب ہے ان کا
ان کے پر، آس پاس اور ہی ہے
کوئی کب غرض ہم کو خوشیوں سے
قلب مضطر کی پیاس اور ہی ہے
ہو طرب آپ کو مبارک، خیر
پر مجھے درد راس اور ہی ہے
ساجدہ! بارشوں کا اور ہے غم
میرے دل کی بھڑاس اور ہی ہے
ساجدہ انور
No comments:
Post a Comment