Showing posts with label واجد قریشی. Show all posts
Showing posts with label واجد قریشی. Show all posts

Thursday, 14 March 2024

اس کو کرنا تھی بے وفائی کی

 اس کو کرنا تھی بے وفائی کی

ہم نے کیوں زور آزمائی کی

اس نے بس یوں ہی یاد کر ڈالا

ہم نے بھی رسم کی ادائی کی

لیں محبت کی ڈگریاں ہم نے

اس نے قانون کی پڑھائی کی

Tuesday, 20 February 2024

حرف کچھ معتبر سا لگتا ہے

 حرف کچھ معتبر سا لگتا ہے

ایک سایہ شجر سا لگتا ہے

تُو مِرا ہمسفر نہیں پھر بھی

جانے کیوں ہمسفر سا لگتا ہے

چاند تاروں پہ ہیں قدم لیکن

آدمی بے ہُنر سا لگتا ہے

Sunday, 18 February 2024

ایسے تو ذہنیت نہ خرابے میں ڈالیے

 ایسے تو ذہنیت نہ خرابے میں ڈالیے 

سڑکوں پہ تارکول کی شیشے اُچھالیے 

نہ بن سکی تو صرف چٹانوں سے آج تک 

ویسے تو ہم نے کانچ کے رشتے نبھا لیے 

پانی سے اس کا زنگ نکلنا محال ہے 

انسانیت کی شکل پہ تیزاب ڈالیے

Saturday, 17 February 2024

دھوئیں کی اوٹ سے باہر بھی آ گیا ہوتا

 دھوئیں کی اوٹ سے باہر بھی آ گیا ہوتا

ہمارے ساتھ اگر رشتۂ ہوا ہوتا

اسے بھی شعلگی‌ٔ ربط کی شکایت تھی

سلگتی آنکھ کی درزوں میں اور کیا ہوتا

جہاں نہ پیڑ اگے تھے نہ آگ ہی برسی

وہاں ہمارے لیے کون سا خدا ہوتا

Sunday, 4 February 2024

پڑھ پڑھ کر جناب لکھ رہا ہوں

 پڑھ پڑھ کر جناب لِکھ رہا ہوں

مانگے کی کِتاب لکھ رہا ہوں

رُقعوں کا ڈھیر لگ گیا ہے

ایک خط کا جواب لکھ رہا ہوں

کاغذ کی نمی کا سبب مت پُوچھ

اشکوں کا حساب لکھ رہا ہوں

Wednesday, 21 July 2021

لہو لہان سمندر بھی دیکھنا ہے ابھی

 لہو لہان سمندر بھی دیکھنا ہے ابھی

بریدہ حلق پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی

ابھی سے دشتِ بلا سے فراغتیں کیسی

بلند ہوتا ہوا سر بھی دیکھنا ہے ابھی

مصالحت کہاں ہو گی سپاہ شام کے ساتھ

زباں کی نوک پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی

Saturday, 6 March 2021

جو نہیں کیا اب تک بے حساب کرنا ہے

جو نہیں کِیا اب تک بے حساب کرنا ہے

اپنے ہر رویّے سے اِجتناب کرنا ہے

اب تو کام آئے گی بے گُمان سفّاکی

خُوش گوار پُھولوں کو آفتاب کرنا ہے

رنگ اپنی چھتری کا دُھوپ نے مِٹا ڈالا

صبح ہونے سے پہلے پھر خضاب کرنا ہے