اس کو کرنا تھی بے وفائی کی
ہم نے کیوں زور آزمائی کی
اس نے بس یوں ہی یاد کر ڈالا
ہم نے بھی رسم کی ادائی کی
لیں محبت کی ڈگریاں ہم نے
اس نے قانون کی پڑھائی کی
اس کو کرنا تھی بے وفائی کی
ہم نے کیوں زور آزمائی کی
اس نے بس یوں ہی یاد کر ڈالا
ہم نے بھی رسم کی ادائی کی
لیں محبت کی ڈگریاں ہم نے
اس نے قانون کی پڑھائی کی
حرف کچھ معتبر سا لگتا ہے
ایک سایہ شجر سا لگتا ہے
تُو مِرا ہمسفر نہیں پھر بھی
جانے کیوں ہمسفر سا لگتا ہے
چاند تاروں پہ ہیں قدم لیکن
آدمی بے ہُنر سا لگتا ہے
ایسے تو ذہنیت نہ خرابے میں ڈالیے
سڑکوں پہ تارکول کی شیشے اُچھالیے
نہ بن سکی تو صرف چٹانوں سے آج تک
ویسے تو ہم نے کانچ کے رشتے نبھا لیے
پانی سے اس کا زنگ نکلنا محال ہے
انسانیت کی شکل پہ تیزاب ڈالیے
دھوئیں کی اوٹ سے باہر بھی آ گیا ہوتا
ہمارے ساتھ اگر رشتۂ ہوا ہوتا
اسے بھی شعلگیٔ ربط کی شکایت تھی
سلگتی آنکھ کی درزوں میں اور کیا ہوتا
جہاں نہ پیڑ اگے تھے نہ آگ ہی برسی
وہاں ہمارے لیے کون سا خدا ہوتا
پڑھ پڑھ کر جناب لِکھ رہا ہوں
مانگے کی کِتاب لکھ رہا ہوں
رُقعوں کا ڈھیر لگ گیا ہے
ایک خط کا جواب لکھ رہا ہوں
کاغذ کی نمی کا سبب مت پُوچھ
اشکوں کا حساب لکھ رہا ہوں
لہو لہان سمندر بھی دیکھنا ہے ابھی
بریدہ حلق پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی
ابھی سے دشتِ بلا سے فراغتیں کیسی
بلند ہوتا ہوا سر بھی دیکھنا ہے ابھی
مصالحت کہاں ہو گی سپاہ شام کے ساتھ
زباں کی نوک پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی
جو نہیں کِیا اب تک بے حساب کرنا ہے
اپنے ہر رویّے سے اِجتناب کرنا ہے
اب تو کام آئے گی بے گُمان سفّاکی
خُوش گوار پُھولوں کو آفتاب کرنا ہے
رنگ اپنی چھتری کا دُھوپ نے مِٹا ڈالا
صبح ہونے سے پہلے پھر خضاب کرنا ہے