ہم نہیں اتنے بُرے وہ جو بُرا کہتے ہیں
لوگ وہ بھی ہیں جو پتھر کو خُدا کہتے ہیں
ڈُوب جاتی ہے کنارے پہ جو کشتی آ کر
کہنے والے اسے قسمت کا لِکھا کہتے ہیں
بے وفا تم ہمیں جانو، کہ ستمگر جانو
ہم تمہیں جانِ ادا، جانِ وفا کہتے ہیں
خُونِ دل میں وہ نکلتی ہیں نہا کر آہیں
جن کو گُزری ہوئی سانسوں کی ہوا کہتے ہیں
بجلیاں جن کی نِگاہوں میں چھُپی ہوں عالم
ان کی بکھری ہوئی زُلفوں کو گھٹا کہتے ہیں
عالم بریلوی
مقصود عالم خاں
No comments:
Post a Comment