Showing posts with label ابراہیم حماد. Show all posts
Showing posts with label ابراہیم حماد. Show all posts

Saturday, 21 June 2025

ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں

 ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں

اس کو رہنا ہی نہیں آیا ہمارے دل میں

سب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑا

لوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میں

تو نے کیا جرم کیا ہوگا جو میں رہتا رہا

اتنا عرصہ مرے چندا ترے پیارے دل میں

Saturday, 29 June 2024

وفا کے دعووں پہ ہنس رہا تھا

 وفا کے دعووں پہ ہنس رہا تھا

مجھے نیا ہجر ہو گیا تھا

بہت ہی بد شکل نکلی دنیا

میں پہلے پردے پہ دیکھتا تھا

اسے بتاتا تھا میری باتیں

خدا مِری کال سن رہا تھا

Sunday, 26 September 2021

کروں گا عشق وراثت کا کچھ بتاؤں گا نئیں

 کروں گا عشق وراثت کا کچھ بتاؤں گا نئیں

میں اک غریب کی بیٹی کو آزماؤں گا نئیں

انہیں کہو کہ بہت ڈھیر شور و شر نہ کریں

میں ڈر گیا تو کئی روز مسکراؤں گا نئیں

تسلی دوں گا تو مر جائے گی، وہ لڑکی ہے

میں جانے دوں گا گلے سے اسے لگاؤں گا نئیں

Sunday, 12 September 2021

دوسرا عشق مری جان نہیں کر سکتا

دوسرا عشق مِری جان نہیں کر سکتا

یہ تِرا حافظ قرآن نہیں کر سکتا

ایسی حالت میں تِرے خواب سے لوٹا ہے یہ جسم

میں ابھی وصل کا سامان نہیں کر سکتا

دسترس میں ہے مِری کیف بھی کیفیت بھی

زخم بھر کر مجھے حیران نہیں کر سکتا