ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں
اس کو رہنا ہی نہیں آیا ہمارے دل میں
سب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑا
لوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میں
تو نے کیا جرم کیا ہوگا جو میں رہتا رہا
اتنا عرصہ مرے چندا ترے پیارے دل میں
ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میں
اس کو رہنا ہی نہیں آیا ہمارے دل میں
سب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑا
لوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میں
تو نے کیا جرم کیا ہوگا جو میں رہتا رہا
اتنا عرصہ مرے چندا ترے پیارے دل میں
وفا کے دعووں پہ ہنس رہا تھا
مجھے نیا ہجر ہو گیا تھا
بہت ہی بد شکل نکلی دنیا
میں پہلے پردے پہ دیکھتا تھا
اسے بتاتا تھا میری باتیں
خدا مِری کال سن رہا تھا
کروں گا عشق وراثت کا کچھ بتاؤں گا نئیں
میں اک غریب کی بیٹی کو آزماؤں گا نئیں
انہیں کہو کہ بہت ڈھیر شور و شر نہ کریں
میں ڈر گیا تو کئی روز مسکراؤں گا نئیں
تسلی دوں گا تو مر جائے گی، وہ لڑکی ہے
میں جانے دوں گا گلے سے اسے لگاؤں گا نئیں
دوسرا عشق مِری جان نہیں کر سکتا
یہ تِرا حافظ قرآن نہیں کر سکتا
ایسی حالت میں تِرے خواب سے لوٹا ہے یہ جسم
میں ابھی وصل کا سامان نہیں کر سکتا
دسترس میں ہے مِری کیف بھی کیفیت بھی
زخم بھر کر مجھے حیران نہیں کر سکتا