Showing posts with label فرحت زاہد. Show all posts
Showing posts with label فرحت زاہد. Show all posts

Wednesday, 2 March 2022

لاکھ رہے شہروں میں پھر بھی اندر سے دیہاتی تھے

 لاکھ رہے شہروں میں پھر بھی اندر سے دیہاتی تھے 

دل کے اچھے لوگ تھے لیکن تھوڑے سے جذباتی تھے 

اب بھی اکثر خواب میں ان کے دھندلے چہرے آتے ہیں 

میری گڑیا کی شادی میں جو ننھے باراتی تھے 

اپنے گرد لکیریں کھینچیں اور پھر ان میں قید ہوئے 

اس دنیا میں کھیل تھے جتنے سارے ہی طبقاتی تھے 

Wednesday, 4 August 2021

اک دریا ہے ایک گھڑا ہے

 اک دریا ہے، ایک گھڑا ہے

٭آسے پاسے، عشق کھڑا ہے

شہزادی یہ سوچ رہی ہے

تخت بڑا، یا پیار بڑا ہے

جوگی کو اس سے کیا مطلب

رستہ کتنا اور پڑا ہے؟

Thursday, 15 July 2021

یاد آتے ہی رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ

 یاد آتے ہی رہے دل سے نکالے ہوئے لوگ

کس کی میراث تھے اور کس کے حوالے ہوئے لوگ

شہرِ آشوب میں آنسو کی طرح پھرتے ہیں

ہائے وہ لوگ کسی خواب کے پالے ہوئے لوگ

اول اول تو ہماری ہی طرح لگتے تھے

منصبِ عشق پہ آئے تو نرالے ہوئے لوگ

Sunday, 11 July 2021

خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا

 خوشبو کی طرح ملتا ہے، وعدہ نہیں کرتا

موسم کا پرندہ ہے، ٹھکانا نہیں کرتا

وہ عشق میں شعلوں کا طلبگار ہے لیکن

اس آگ میں مر جانے کا سودا نہیں کرتا

وہ پچھلی محبت میں مِرے دل کا خسارہ

اسبابِ دروں وہ کبھی پوچھا نہیں کرتا

Sunday, 30 May 2021

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

 عورت ہوں مگر صورتِ کہسار کھڑی ہوں

اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں

وہ مجھ سے ستاروں کا پتہ پوچھ رہا ہے

پتھر کی طرح جس کی انگوٹھی میں جڑی ہوں

الفاظ، نہ آواز، نہ ہمراز، نہ دمساز

یہ کیسے دوراہے پہ میں خاموش کھڑی ہوں

Saturday, 29 May 2021

حق مہر کتنا ہو گا بتایا نہیں گیا

 حق مہر کتنا ہو گا، بتایا نہیں گیا

شہزادیوں کو بام پر لایا نہیں گیا

کمزور سی حدیث سُنا دی گئی کوئی

انصاف کا ترازو اُٹھایا نہیں گیا

میں اپنے ساتھ ساتھ ہوں، وہ اپنے ساتھ ساتھ

ہمزاد ہم کو بنایا نہیں گیا

Friday, 28 May 2021

جذبوں کی ہر ایک کلی اندھی نکلی

 جذبوں کی ہر ایک کلی اندھی نکلی

اور محبت اس سے بھی پگلی نکلی

میں بھی توڑ نہ پائی جھوٹی رسمیں

میں بھی بس اک معمولی لڑکی نکلی

تم مجھ سے نفرت کیسے کر پاؤ گے

میں تو اپنے جھوٹ میں بھی سچی نکلی

Thursday, 27 May 2021

سن حوا کی بیٹی کوئی دن ایسا بھی آیا کیا

 سُن حوا کی بیٹی 


کوئی دن ایسا بھی آیا کیا؟

تم جی پائی ہو اپنے لیے

تم مر پائی ہو اپنے لیے

کبھی کھل کر ہنسنا سیکھا ہو

کسی خواب کو چھُو کر دیکھا ہو

آنچ تو دیے کی تھی سردیوں کی شاموں میں

 آنچ تو دِیے کی تھی سردیوں کی شاموں میں

ورنہ دھوپ کب اُتری سردیوں کی شاموں میں

ہاتھ سے کبوتر تو پھر اُڑا دیا میں نے

رہ گئی ہے تنہائی سردیوں کی شاموں میں

ہجر اور ہجرت کو اوڑھ کر بھی دیکھا ہے

سانس تک نہ چلتی تھی سردیوں کی شاموں میں

Wednesday, 26 May 2021

عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے

 عجیب رُت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے

کمال ہونے لگا ہے کمال سے آگے

وہ ایک لمحہ جو تتلی سا اپنے بیچ میں ہے

اسے میں لے کے چلی ماہ و سال سے آگے

کوئی جواز ہو ہمدم اب اس رفاقت کا

تلاش کر مجھے میرے جمال سے آگے

Sunday, 29 November 2020

یہ چاند مجھ کو ہی تک رہا ہے

 یہ چاند مجھ کو ہی تک رہا ہے

تمہیں ہمیشہ یہ شک رہا ہے

دراز میں چوڑیاں پڑی ہیں

کلائی میں وہ کھنک رہا ہے

میں زیرِ لب مسکرا رہی ہوں

وہ مجھ میں اب تک چہک رہا ہے