رم جھم ہے یہ اشکوں کی روانی ہے کہ کیا ہے
آ دیکھ مِری آنکھ میں پانی ہے کہ کیا ہے
انوار کے دھارے ہیں یہ خوشبو ہے کہ تم ہو
آنچل ہے کوئی رات کی رانی ہے کہ کیا ہے
شعلہ ہے یہ شبنم ہے کہ تتلی ہے کلی ہے
اک بحرِ سخن تیری جوانی ہے کہ کیا ہے
رم جھم ہے یہ اشکوں کی روانی ہے کہ کیا ہے
آ دیکھ مِری آنکھ میں پانی ہے کہ کیا ہے
انوار کے دھارے ہیں یہ خوشبو ہے کہ تم ہو
آنچل ہے کوئی رات کی رانی ہے کہ کیا ہے
شعلہ ہے یہ شبنم ہے کہ تتلی ہے کلی ہے
اک بحرِ سخن تیری جوانی ہے کہ کیا ہے
دیوار و در سے چاہے تو رشتہ بنا کے رکھ
لیکن بُرا نہ مانے تو؛ دستک بچا کے رکھ
تُو آندھیوں کے کھیل سے واقف نہیں ابھی
پلکوں کے طاق پر نہ تُو دِیپک جلا کے رکھ
خالق جو تُو نے اس کو بنایا ہے گُل بدن
پھر حاسدوں کے شر سے بھی اس کو بچا کے رکھ
دیکھ یوں روٹھ کر نہیں جاتے
باغ سے بے ثمر نہیں جاتے
بات کو کر رہے ہیں ختم یہیں
تیری اوقات پر نہیں جاتے
یعنی کہ لوگ اب جدا ہو کر
زندہ رہتے ہیں مر نہیں جاتے
درکار کچھ نہیں تِری مہر و وفا کے بعد
کچھ اور مانگتا ہی نہیں اس دعا کے بعد
قربان جاؤں ایسی سخاوت پہ میں حضور
کیا چاہیے جو پوچھ رہے ہیں عطا کے بعد
کیسا فقیر ہوں میں تِری بارگاہ کا
کشکول توڑ دیتا ہوں اکثر صدا کے بعد
تم جو چاہو تو کہانی یہ سنا دیتے ہیں
کس طرح لوگ محبت میں دغا دیتے ہیں
ورنہ یہ رازِ محبت تو عیاں ہوتا نہیں
لوگ کم ظرف کئی شور مچا دیتے ہیں
کس طرح ان کو فلک چُھونے سے روکے گی ہوا
جن پرندوں کو ہرے پیڑ دعا دیتے ہیں
ہم نہیں عہدِ ملاقات سے ٹلنے والے
آج ہیں گیسوئے خمدار سنورنے والے
اب تِری دید کی خاطر یہ مجھے لگتا ہے
تیرے عُشاق ہیں آپس میں اُلجھنے والے
اک ستم یہ کہ ادب سے بھی لگن رکھتے ہیں
میری غزلوں کی پذیرائی پہ جلنے والے
روز اس کو منانا پڑتا ہے
یعنی خود کو گِرانا پڑتا ہے
بات وہ بے تُکی سی کرتی ہے
اور مجھے مُسکرانا پڑتا ہے
گو کہ ہم ساتھ ہیں مگر اپنے
درمیاں اک زمانہ پڑتا ہے