Showing posts with label یاسر گیلانی. Show all posts
Showing posts with label یاسر گیلانی. Show all posts

Monday, 27 March 2023

رم جھم ہے یہ اشکوں کی روانی ہے کہ کیا ہے

 رم جھم ہے یہ اشکوں کی روانی ہے کہ کیا ہے

آ دیکھ مِری آنکھ میں پانی ہے کہ کیا ہے

انوار کے دھارے ہیں یہ خوشبو ہے کہ تم ہو 

آنچل ہے کوئی رات کی رانی ہے کہ کیا ہے 

شعلہ ہے یہ شبنم ہے کہ تتلی ہے کلی ہے 

اک بحرِ سخن تیری جوانی ہے کہ کیا ہے 

Wednesday, 23 November 2022

دیوار و در سے چاہے تو رشتہ بنا کے رکھ

 دیوار و در سے چاہے تو رشتہ بنا کے رکھ

لیکن بُرا نہ مانے تو؛ دستک بچا کے رکھ

تُو آندھیوں کے کھیل سے واقف نہیں ابھی

پلکوں کے طاق پر نہ تُو دِیپک جلا کے رکھ

خالق جو تُو نے اس کو بنایا ہے گُل بدن

پھر حاسدوں کے شر سے بھی اس کو بچا کے رکھ

Tuesday, 11 October 2022

دیکھ یوں روٹھ کر نہیں جاتے

 دیکھ یوں روٹھ کر نہیں جاتے

باغ سے بے ثمر نہیں جاتے

بات کو کر رہے ہیں ختم یہیں

تیری اوقات پر نہیں جاتے

یعنی کہ لوگ اب جدا ہو کر

زندہ رہتے ہیں مر نہیں جاتے

Wednesday, 28 September 2022

درکار کچھ نہیں تری مہر و وفا کے بعد

 درکار کچھ نہیں تِری مہر و وفا کے بعد

کچھ اور مانگتا ہی نہیں اس دعا کے بعد

قربان جاؤں ایسی سخاوت پہ میں حضور

کیا چاہیے جو پوچھ رہے ہیں عطا کے بعد

کیسا فقیر ہوں میں تِری بارگاہ کا

کشکول توڑ دیتا ہوں اکثر صدا کے بعد

Wednesday, 20 April 2022

تم جو چاہو تو کہانی یہ سنا دیتے ہیں

 تم جو چاہو تو کہانی یہ سنا دیتے ہیں

کس طرح لوگ محبت میں دغا دیتے ہیں

ورنہ یہ رازِ محبت تو عیاں ہوتا نہیں

لوگ کم ظرف کئی شور مچا دیتے ہیں

کس طرح ان کو فلک چُھونے سے روکے گی ہوا

جن پرندوں کو ہرے پیڑ دعا دیتے ہیں

Monday, 24 January 2022

ہم نہیں عہد ملاقات سے ٹلنے والے

ہم نہیں عہدِ ملاقات سے ٹلنے والے

آج ہیں گیسوئے خمدار سنورنے والے

اب تِری دید کی خاطر یہ مجھے لگتا ہے

تیرے عُشاق ہیں آپس میں اُلجھنے والے

اک ستم یہ کہ ادب سے بھی لگن رکھتے ہیں

میری غزلوں کی پذیرائی پہ جلنے والے

Saturday, 19 June 2021

روز اس کو منانا پڑتا ہے

 روز اس کو منانا پڑتا ہے

یعنی خود کو گِرانا پڑتا ہے

بات وہ بے تُکی سی کرتی ہے

اور مجھے مُسکرانا پڑتا ہے

گو کہ ہم ساتھ ہیں مگر اپنے

درمیاں اک زمانہ پڑتا ہے