Showing posts with label سلیم احمد. Show all posts
Showing posts with label سلیم احمد. Show all posts

Wednesday, 8 May 2024

سورج ڈھلنے میں تھوڑی دیر باقی ہے

 سورج ڈھلنے میں تھوڑی دیر باقی ہے

ابھی چند ساعتوں کے بعد

شام کے سائے گزرگاہوں پر پھیلنے لگیں گے

اور ٹریفک کسی مریض کے دل کی طرح

خودبخود تیز ہوجائے گی

پرندے جب شام کو آشیانوں کی طرف لوٹتے ہیں 

Friday, 22 April 2022

وہ ایک لمحہ جو اب نہیں ہے

 اب


وہ ایک لمحہ جو اب نہیں ہے

گزر چکا ہے

وہ ایک لمحہ جو اب نہیں ہے

ہے آنے والا

گزر چکا ہے جو ایک لمحہ وہ میں نہیں ہوں

Wednesday, 10 March 2021

مجبوریوں کا پاس بھی کچھ تھا وفا کے ساتھ

 مجبوریوں کا پاس بھی کچھ تھا وفا کے ساتھ

وہ راستے سے پھِر گیا کچھ دور آ کے ساتھ

قُربِ بدن سے کم نہ ہوئے دل کے فاصلے

اک عمر کٹ گئی کسی نا آشنا کے ساتھ

ساتھ اسکے رہ سکے نہ بغیر اسکے رہ سکے

یہ ربط ہے چراغ کا کیسا ہوا کے ساتھ

Sunday, 24 January 2021

بارہا شب کو یوں لگا ہے مجھے

 بارہا شب کو یوں لگا ہے مجھے

کوئی سایہ پکارتا ہے مجھے

جیسے یہ شہر کل نہیں ہو گا

جانے کیا وہم ہو گیا ہے مجھے

میں ستاروں کا ایک نغمہ ہوں

بیکراں رات نے سنا ہے مجھے

Saturday, 16 January 2021

ہر چند ہم نے اپنی زباں سے کہا نہیں

 ہر چند ہم نے اپنی زباں سے کہا نہیں

وہ حال کون سا ہے جو تُو نے سنا نہیں

ایسا بھی اب نہیں ہے کہ نازِ صبا اٹھائیں

محفل میں دیکھتا ہے تو پہچانتا نہیں

یوں بھی ہزار روگ ہیں دل کو لگے ہوئے

پھر اس پہ یہ ملال کہ وہ پوچھتا نہیں

Friday, 23 October 2020

اسی کو ترک وفا کا گماں ستانے لگے

 اسی کو ترکِ وفا کا گماں ستانے لگے

جسے بھلاؤں تو کچھ اور یاد آنے لگے

اسے سنبھال کے رکھو، خزاں میں لَو دے گی

یہ خاکِ لالہ و گُل ہے، کہیں ٹھکانے لگے

تجھے میں اپنی محبت سے ہٹ کے دیکھ سکوں

یہاں تک آنے میں مجھ کو، کئی زمانے لگے

Sunday, 13 September 2020

شب کو یہ سلسلہ ہے برسوں سے

شب کو یہ سلسلہ ہے برسوں سے
گھر کا گھر جاگتا ہے برسوں سے
جانے کیا ہے کہ اس ندی کے پار
اک دِیا جل رہا ہے برسوں سے
چلنے والے رکے رہیں کب تک
راستہ بن رہا ہے برسوں سے

نقش تو بنائے ہیں کچھ غزل کی صورت میں

نقش تو بنائے ہیں کچھ غزل کی صورت میں
یہ کتابِ فردا ہے، دیکھیے گا فرصت میں
خیر و شر کی خبروں کو مانتے تو سب ہی ہیں
کس کو ہوش رہتا ہے جبر اور ضرورت میں
دونوں درد دیتی ہیں آہِ سرد دیتی ہیں
فرق کچھ نہیں ایسا نفرت و محبت میں

Monday, 20 January 2020

دل حسن کو دان دے رہا ہوں

دل حسن کو دان دے رہا ہوں
گاہک کو دکان دے رہا ہوں
شاید کوئی بندۂ خدا آئے
صحرا میں اذان دے رہا ہوں
جو فصل ابھی کٹی نہیں ہے
میں اس کا لگان دے رہا ہوں

ٹھہر جاتے ہیں کہ آداب سفر جانتے ہیں

ٹھہر جاتے ہیں کہ آداب سفر جانتے ہیں
ورنہ منزل کو بھی ہم راہگزر جانتے ہیں
نامرادان محبت کو حقارت سے نہ دیکھ
یہ بڑے لوگ ہیں، جینے کا ہنر جانتے ہیں
شرط ویرانی سے واقف ہی نہیں شہر کے لوگ
در و دیوار بنا کر اسے گھر جانتے ہیں

زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے

زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے
گھاس اس قبر پہ کچھ اور ہری لگتی ہے
روز کاغذ پہ بناتا ہوں میں قدموں کے نقوش
کوئی چلتا نہیں، اور ہمسفری لگتی ہے
آنکھ مانوسِ تماشا نہیں ہونے پاتی
کیسی صورت ہے کہ ہر روز نئی لگتی ہے

Friday, 16 December 2016

ہماری زندگی سب کی گھٹائی جا رہی ہے

ہماری زندگی سب کی گھٹائی جا رہی ہے
دوا کے نام پہ مٹی کھلائی جا رہی ہے
سنو! یہ کس لیے اجلت میں مر رہے ہیں لوگ
یہ کائنات دوبارہ بنائی جا رہی ہے؟
یہ کیا نظام ہے جس میں حرام زادوں کو
حلال زادوں کے آدھی کمائی جا رہی ہے

Saturday, 16 May 2015

عمر بھر کاوش اظہار نے سونے نہ دیا

 عمر بھر کاوشِ اظہار نے سونے نہ دیا

حرفِ نا گفتہ کے آزار نے سونے نہ دیا

دشت کی وسعت بے قید میں کیا نیند آتی

گھر کی قیدِ در و دیوار نے سونے نہ دیا

تھک کے سو رہنے کو رستے میں ٹھکانے تھے بہت

ہوسِ سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا

وہ مرے دل کی روشنی وہ مرے داغ لے گئی

وہ مِرے دل کی روشنی، وہ میرے داغ لے گئی
ایسی چلی ہوائے شام، سارے چراغ لے گئی
شاخ و گُل و ثمر کی بات کون کرے، کہ ایک رات
بادِ شمال آئی تھی، باغ کا باغ لے گئی
وقت کی موجِ تُند رو آئی تھی، سُوئے مے کدہ
میری شراب پھینک کر میرے ایاغ لے گئی

عشق میں جس کے یہ احوال بنا رکھا ہے

عشق میں جس کے یہ احوال بنا رکھا ہے
اب وہی کہتا ہے اِس وضع میں کیا رکھا ہے
لے چلے ہو مجھے اس بزم میں یارو! لیکن
کچھ مِرا حال بھی پہلے سے سُنا رکھا ہے
حالِ دل کون سنائے اُسے، فُرصت کس کو
سب کو اُس آنکھ نے باتوں میں لگا رکھا ہے

دیکھنے کے لیے اک شرط ہے منظر ہونا

دیکھنے کے لیے اِک شرط ہے منظر ہونا
دوسری شرط ہے پھر آنکھ کا پتھر ہونا
وہیں دیوار اٹھا دی مِرے معماروں نے
گھر کے نقشے میں مقرر تھا جہاں در ہونا
مجھ کو دیکھا تو فلک زاد رفیقوں نے کہا
اس ستارے کا مقدر ہے زمیں پر ہونا

دلوں میں درد بھرتا آنکھ میں گوہر بناتا ہوں

دلوں میں درد بھرتا، آنکھ میں گوہر بناتا ہوں
جنہیں مائیں پہنتی ہیں میں وہ زیور بناتا ہوں
غنِیمِ وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں
پرانی کشتیاں ہیں میرے ملاحوں کی قسمت میں
میں ان کے بادباں سِیتا ہوں اور لنگر بناتا ہوں

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں

جانے کسی نے کیا کہا تیز ہوا کے شور میں
مجھ سے سُنا نہیں گیا تیز ہوا کے شور میں
 میں بھی تجھے نہ سُن سکا تُو بھی مجھے نہ سُن سکا
تجھ سے ہُوا مکالمہ، تیز ہوا کے شور میں
کشتیوں والے بے خبر بڑھتے رہے بھنور کی سمت
اور میں چیختا رہا تیز ہوا کے شور میں

ترک ان سے رسم و راہ و ملاقات ہو گئی

تَرک ان سے رسم و راہ و ملاقات ہو گئی
یوں مِل گئے کہیں تو کوئی بات ہو گئی
دل تھا اُداس عالمِ غُربت کی شام تھی
کیا وقت تھا کہ تم سے ملاقات ہو گئی
یہ دشتِ ہول خیز  یہ منزل کی دُھن یہ شوق
یہ بھی خبر نہیں کہ کہاں رات ہو گئی

Friday, 12 December 2014

دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے

دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے
اس طرح ملیے کہ جزوِ زندگی بن جائیے
اک پتنگے نے یہ اپنے رقص کے آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہیے، روشنی بن جائیے
جس طرح دریا بجھا سکتا نہیں صحرا کی پیاس
اپنے اندر ایک ایسی تشنگی بن جائیے