سورج ڈھلنے میں تھوڑی دیر باقی ہے
ابھی چند ساعتوں کے بعد
شام کے سائے گزرگاہوں پر پھیلنے لگیں گے
اور ٹریفک کسی مریض کے دل کی طرح
خودبخود تیز ہوجائے گی
پرندے جب شام کو آشیانوں کی طرف لوٹتے ہیں
سورج ڈھلنے میں تھوڑی دیر باقی ہے
ابھی چند ساعتوں کے بعد
شام کے سائے گزرگاہوں پر پھیلنے لگیں گے
اور ٹریفک کسی مریض کے دل کی طرح
خودبخود تیز ہوجائے گی
پرندے جب شام کو آشیانوں کی طرف لوٹتے ہیں
اب
وہ ایک لمحہ جو اب نہیں ہے
گزر چکا ہے
وہ ایک لمحہ جو اب نہیں ہے
ہے آنے والا
گزر چکا ہے جو ایک لمحہ وہ میں نہیں ہوں
مجبوریوں کا پاس بھی کچھ تھا وفا کے ساتھ
وہ راستے سے پھِر گیا کچھ دور آ کے ساتھ
قُربِ بدن سے کم نہ ہوئے دل کے فاصلے
اک عمر کٹ گئی کسی نا آشنا کے ساتھ
ساتھ اسکے رہ سکے نہ بغیر اسکے رہ سکے
یہ ربط ہے چراغ کا کیسا ہوا کے ساتھ
بارہا شب کو یوں لگا ہے مجھے
کوئی سایہ پکارتا ہے مجھے
جیسے یہ شہر کل نہیں ہو گا
جانے کیا وہم ہو گیا ہے مجھے
میں ستاروں کا ایک نغمہ ہوں
بیکراں رات نے سنا ہے مجھے
ہر چند ہم نے اپنی زباں سے کہا نہیں
وہ حال کون سا ہے جو تُو نے سنا نہیں
ایسا بھی اب نہیں ہے کہ نازِ صبا اٹھائیں
محفل میں دیکھتا ہے تو پہچانتا نہیں
یوں بھی ہزار روگ ہیں دل کو لگے ہوئے
پھر اس پہ یہ ملال کہ وہ پوچھتا نہیں
اسی کو ترکِ وفا کا گماں ستانے لگے
جسے بھلاؤں تو کچھ اور یاد آنے لگے
اسے سنبھال کے رکھو، خزاں میں لَو دے گی
یہ خاکِ لالہ و گُل ہے، کہیں ٹھکانے لگے
تجھے میں اپنی محبت سے ہٹ کے دیکھ سکوں
یہاں تک آنے میں مجھ کو، کئی زمانے لگے
عمر بھر کاوشِ اظہار نے سونے نہ دیا
حرفِ نا گفتہ کے آزار نے سونے نہ دیا
دشت کی وسعت بے قید میں کیا نیند آتی
گھر کی قیدِ در و دیوار نے سونے نہ دیا
تھک کے سو رہنے کو رستے میں ٹھکانے تھے بہت
ہوسِ سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا