Showing posts with label تاجدار عادل. Show all posts
Showing posts with label تاجدار عادل. Show all posts

Monday, 18 January 2021

لب تک آیا گلہ ہمیشہ سے

 لب تک آیا گِلہ ہمیشہ سے

اور میں چپ رہا ہمیشہ سے

سب ہواؤں سے جنگ کرتا رہا

ایک ننھا دِیا🪔 ہمیشہ سے

سوچ پر لگ سکی نہ پابندی

یوں ہی آئی ہوا ہمیشہ سے

Friday, 25 September 2020

ساون رت اور اڑتی پروا تیرے نام

 ساون رُت اور اڑتی پُروا تیرے نام

دھوپ نگر سے ہے یہ تحفہ تیرے نام

سرخ گلاب کے سارے موسم تیرے لیے

خوابوں کا ہر ایک دریچہ تیرے نام

چاند کی آنکھیں پھول کی خوشبو بہتی رات

قُربت کا ہر ایک وسیلہ تیرے نام

Thursday, 1 December 2016

وفا سرشت ہے میری کہا نہ کرتا تھا

وفا سرشت ہے میری، کہا نہ کرتا تھا
یہ فیصلہ بھی مرے حق میں ہوا نہ کرتا تھا
بہت دنوں سے مرے گھر پہ روز آتا ہے
بلاتے رہتے تھے جس کو سنا نہ کرتا تھا
یقیں نہیں ہے کہ مجبور ہو گیا وہ بھی
خدا پرست تھا ایسا، دعا نہ کرتا تھا

زندگی میں کوئی کمی ہے کہیں

زندگی میں کوئی کمی ہے کہیں
لاکھ ڈھونڈا پتہ چلا بھی نہیں
زندگی دُھند اداس جنگل کی
کھو گئے ہو تم اس میں دور کہیں
دل کی دنیا میں آ کے دیکھو تو
اس سے بہتر نہ آسماں، نہ زمیں

اس کی یادوں کا سلسلہ ہو گا

اس کی یادوں کا سلسلہ ہو گا
اس کہانی میں اور کیا ہو گا 
جب بچھڑ کر بھی وہ خموش رہا
گھر پہنچ کر تو رو دیا ہو گا
خود کو سمجھا لیا ہے میں نے مگر
کیا وہ خود بھی بدل گیا ہو گا 

Wednesday, 23 November 2016

زخم کب کا تھا درد اٹھا ہے اب

زخم کب کا تھا درد اٹھا ہے اب
اس کے جانے کا دکھ ہوا ہے اب
میری آنکھوں میں خواب ہیں جس کے
اس کی آنکھوں میں رت جگا ہے اب
سنتے آتے ہیں قافلہ دل کا
رہ گزر میں کہیں رکا ہے اب

حادثہ روز نیا واقعہ تھا روز وہی

حادثہ روز نیا واقعہ تھا روز وہی
زخم ہر لمحہ نئے درد ملا روز وہی
وہی اک وصل کی خواہش کیلئے ہجر کی شام
وحشت جاں کے لئے حرفِ دعا روز وہی
وہی اک شخص کی خاطر نئی بست کا پتہ
شکلیں پر روز نئی راہ وفا روز وہی

دیکھوں تو شہر بھر ہی تماشا دکھائی دے

دیکھوں تو شہر بھر ہی تماشا دکھائی دے
چیخوں تو پیڑ پات بھی بہرا دکھائی دے
ہر شخص اپنے آپ کو کرتا رہے تلاش
ہر شخص اپنے اپ میں چھپتا دکھائی دے
میں ہی نہیں ہوں اپنی تباہی کی داستاں
وہ بھی اب اپنے آپ سے لڑتا دکھائی دے

Monday, 2 November 2015

ساون رت اور اڑتی پروا تیرے نام

ساون رُت اور اُڑتی پُروا تیرے نام
دھُوپ نگر سے ہے یہ تحفہ، تیرے نام
سُرخ گُلاب کے سارے موسم، تیرے لیے
خوابوں کا ہر ایک دریچہ تیرے نام
چاند کی آنکھیں، پھُول کی خُوشبو، بہتی رات
قُربت کا ہر ایک وسِیلہ، تیرے نام

طلسم عشق تھا سب اس کا ساتھ ہونے تک

طلسمِ عشق تھا سب اس کا ساتھ ہونے تک
خیالِ درد نہ آیا نجات ہونے تک
مِلا تھا ہجر کے رستے میں صبح کی مانند
بچھڑ گیا تھا مسافر سے رات ہونے تک
عجیب رنگ بدلتی ہے اس کی نگری بھی
ہر ایک نہر کو دیکھا فرات ہونے تک

یہ آنکھ بھی یہ خواب بھی یہ رات اسی کی

یہ آنکھ بھی، یہ خواب بھی، یہ رات اسی کی
ہر بات پہ یاد آتی ہے، ہر بات اسی کی
جگنو سے چمکتے ہیں اسی یاد کے دَم سے
آنکھوں میں لیے پھرتے ہیں سوغات اسی کی
ہر شعلے کے پیچھے ہے اسی آگ کی صورت
ہر بات کے پردے میں حکایات اسی کی

Saturday, 28 July 2012

ہر ایک چہرے پہ دل کو گمان اس کا تھا

ہر ایک چہرے پہ دل کو گُمان اُس کا تھا
بسا نہ کوئی، یہ خالی مکان اُس کا تھا
میں بے جہت ہی رہا اور بے مقام سا وہ
ستارہ میرا، سمندر نشان اُس کا تھا
میں اُس طلسم سے باہر کہاں تلک جاتا
فضا کھلی تھی، مگر آسمان اُس کا تھا