لب تک آیا گِلہ ہمیشہ سے
اور میں چپ رہا ہمیشہ سے
سب ہواؤں سے جنگ کرتا رہا
ایک ننھا دِیا🪔 ہمیشہ سے
سوچ پر لگ سکی نہ پابندی
یوں ہی آئی ہوا ہمیشہ سے
لب تک آیا گِلہ ہمیشہ سے
اور میں چپ رہا ہمیشہ سے
سب ہواؤں سے جنگ کرتا رہا
ایک ننھا دِیا🪔 ہمیشہ سے
سوچ پر لگ سکی نہ پابندی
یوں ہی آئی ہوا ہمیشہ سے
ساون رُت اور اڑتی پُروا تیرے نام
دھوپ نگر سے ہے یہ تحفہ تیرے نام
سرخ گلاب کے سارے موسم تیرے لیے
خوابوں کا ہر ایک دریچہ تیرے نام
چاند کی آنکھیں پھول کی خوشبو بہتی رات
قُربت کا ہر ایک وسیلہ تیرے نام