اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے
تیر ہر شخص کی کمان میں ہے
جس کو دیکھو وہی ہے چپ چپ سا
جیسے ہر شخص امتحان میں ہے
کھو چکے ہم یقین جیسی شے
تُو ابھی تک کسی گمان میں ہے
اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے
تیر ہر شخص کی کمان میں ہے
جس کو دیکھو وہی ہے چپ چپ سا
جیسے ہر شخص امتحان میں ہے
کھو چکے ہم یقین جیسی شے
تُو ابھی تک کسی گمان میں ہے
فکرِ غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے
زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے
لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں
میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے
ہم نہ سقراط، نہ منصور، نہ عیسیٰ، لیکن
جو بھی قاتل ہے،۔ ہمارا ہی تمنائی ہے
فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے
زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے
لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں
میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے
ہم نہ سقراط، نہ منصور، نہ عیسیٰ لیکن
جو بھی قاتل ہے، ہمارا ہی تمنائی ہے
سال کے آغاز سے متعلق شاعری
یکم جنوری ہے نیا سال ہے
دسمبر میں پوچھوں گا کیا حال ہے
بچائے خدا شر کی زد سے اسے
بے چارہ بہت نیک اعمال ہے
بتانے لگا رات بوڑھا فقیر
یہ دنیا ہمیشہ سے کنگال ہے
ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے
مجھے یہ خواب ہمیشہ دکھائی دیتا ہے
برس رہی ہیں عقیدت کی بدلیاں لیکن
شعور آج پیاسا دکھائی دیتا ہے
چراغ منزل فردا جلائے گا اک روز
وہ راہگیر جو تنہا دکھائی دیتا ہے
ان کی بے رخی میں بھی التفات شامل ہے
آج کل مری حالت دیکھنے کے قابل ہے
قتل ہو تو میرا سا، موت ہو تو میری سی
میرے سوگواروں میں آج میرا قاتل ہے
ہر قدم پہ ناکامی، ہر قدم پہ محرومی
غالباً کوئی دشمن دوستوں میں شامل ہے
وہ سرپھری ہوا تھی سنبھلنا پڑا مجھے
میں آخری چراغ تھا جلنا پڑا مجھے
محسوس کر رہا تھا اسے اپنے آس پاس
اپنا خیال خود ہی بدلنا پڑا مجھے
سورج نے چھپتے چھپتے اجاگر کیا تو تھا
لیکن تمام رات پگھلنا پڑا مجھے