Showing posts with label امیر قزلباش. Show all posts
Showing posts with label امیر قزلباش. Show all posts

Thursday, 7 April 2022

اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے

 اک پرندہ ابھی اڑان میں ہے

تیر ہر شخص کی کمان میں ہے

جس کو دیکھو وہی ہے چپ چپ سا

جیسے ہر شخص امتحان میں ہے

کھو چکے ہم یقین جیسی شے

تُو ابھی تک کسی گمان میں ہے

Monday, 4 April 2022

فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

فکرِ غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے

لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں

میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے

ہم نہ سقراط، نہ منصور، نہ عیسیٰ، لیکن

جو بھی قاتل ہے،۔ ہمارا ہی تمنائی ہے

Saturday, 5 February 2022

فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

 فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے

لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں

میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے

ہم نہ سقراط، نہ منصور، نہ عیسیٰ لیکن

جو بھی قاتل ہے، ہمارا ہی تمنائی ہے

Thursday, 31 December 2020

یکم جنوری ہے نیا سال ہے

 سال کے آغاز سے متعلق شاعری


یکم جنوری ہے نیا سال ہے

دسمبر میں پوچھوں گا کیا حال ہے

بچائے خدا شر کی زد سے اسے

بے چارہ بہت نیک اعمال ہے

بتانے لگا رات بوڑھا فقیر

یہ دنیا ہمیشہ سے کنگال ہے

Saturday, 19 December 2020

ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے

 ندی کے پار اجالا دکھائی دیتا ہے

مجھے یہ خواب ہمیشہ دکھائی دیتا ہے

برس رہی ہیں عقیدت کی بدلیاں لیکن

شعور آج پیاسا دکھائی دیتا ہے

چراغ منزل فردا جلائے گا اک روز

وہ راہگیر جو تنہا دکھائی دیتا ہے

Thursday, 3 December 2020

ان کی بے رخی میں بھی التفات شامل ہے

 ان کی بے رخی میں بھی التفات شامل ہے

آج کل مری حالت دیکھنے کے قابل ہے

قتل ہو تو میرا سا، موت ہو تو میری سی

میرے سوگواروں میں آج میرا قاتل ہے

ہر قدم پہ ناکامی، ہر قدم پہ محرومی

غالباً کوئی دشمن دوستوں میں شامل ہے

Friday, 25 September 2020

وہ سر پھری ہوا تھی سنبھلنا پڑا مجھے

 وہ سرپھری ہوا تھی سنبھلنا پڑا مجھے

میں آخری چراغ تھا جلنا پڑا مجھے

محسوس کر رہا تھا اسے اپنے آس پاس

اپنا خیال خود ہی بدلنا پڑا مجھے

سورج نے چھپتے چھپتے اجاگر کیا تو تھا

لیکن تمام رات پگھلنا پڑا مجھے

Sunday, 11 December 2016

ہر اک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے

ہر اک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے
یہ زخم گھر سے نکل کر دکھائی دیتا ہے
سنا ہے اب بھی مِرے ہاتھوں کی لکیروں میں
نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے
اب انکسار بھی شامل ہے وضع میں اس کی
اسے بھی اب کوئی ہمسر دکھائی دیتا ہے

اب اپنی ہی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ہوں

اب اپنی ہی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ہوں
صدیوں کا عقیدہ ہوں مگر ٹوٹ چکا ہوں
اک چیخ سنا کرتا ہوں ہر شام کسی کی 
ہر صبح یہ لگتا ہے کہ میں قتل ہوا ہوں
نیلا ہے ہر اک رنگ ان آنکھوں میں ابھی تک
میں نے بھی کئی زہر پیۓ ہیں تو جیا ہوں

Friday, 8 January 2016

ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب

ہر گام حادثہ ہے، ٹھہر جائیے جناب
رستہ اگر ہو یاد تو گھر جائیے جناب
زندہ حقیقتوں کے تلاطم ہیں سامنے
خوابوں کی کشتیوں سے اتر جائیے جناب
انکار کی صلیب ہوں، سچائیوں کا زہر
مجھ سے ملے بغیر گزر جائیے جناب

عجب صورت حالات ہونے والی ہے

عجب صورت حالات ہونے والی ہے
سنا ہے اب کے اسے مات ہونے والی ہے
نہ بچ سکے گا ادھورا مکان بھی اس کا
مجھے خبر ہے کہ برسات ہونے والی ہے
جلاؤ مشعلِ جاں، شمعِ دل کرو روشن
سفر طویل ہے اور رات ہونے والی ہے

ہم نے یہ دشت بھی چھانے ہیں بہت

ہم نے یہ دشت بھی چھانے ہیں بہت
ورنہ کچھ خواب سہانے ہیں بہت
ایک شیشہ کی عمارت ہوں میں
ٹوٹ جانے کے بہانے ہیں بہت
بند آنکھیں کیے بیٹھا ہے کوئی
ہر طرف آئینہ خانے ہیں بہت

بند آنکھوں سے وہ منظر دیکھوں

بند آنکھوں سے وہ منظر دیکھوں 
ریگ صحرا کو سمندر دیکھوں
کیا گزرتی ہے میرے بعد س پر 
آج میں اس سے بچھڑ کر دیکھوں
شہر کا شہر ہوا پتھر کا 
میں نے چاہا تھا کہ مڑ کر دیکھوں

Wednesday, 14 October 2015

زندگی تجھ کو منانے نکلے

زندگی تجھ کو منانے نکلے
ہم بھی کِس درجہ دِوانے نکلے
کچھ تو دُشمن تھے مخالف صف میں
کچھ مِرے دوست پُرانے نکلے
اس نے پھر موند لیں آنکھیں اپنی
ہر طرف آئینہ خانے نکلے

دوست سفاک ہیں مرنے نہیں دیتے مجھ کو

دوست سفاک ہیں مرنے نہیں دیتے مجھ کو
میں کہ اک زخم ہوں بھرنے نہیں دیتے مجھ کو
جانے کیا جرم ہُوا ہے کہ مِرے شہر کے لوگ
اس کی گلیوں سے گزرنے نہیں دیتے مجھ کو
میں اگر ڈوبنا چاہوں تو بچا لیتے ہیں لوگ
اور ابھروں تو ابھرنے نہیں دیتے مجھ کو

بلا کی پیاس ہے دریا کے دو کناروں کو

بلا کی پیاس ہے دریا کے دو کناروں کو
سمجھ سکے تو سمجھ میرے استعاروں کو
جو پیش پیش رہا ہر گناہ میں، یارو
طلب کِیا ہے اسی نے گناہ گاروں کو
ہر ایک ظلم کو سہتے رہے سبھی ہنس کر
کسی نے کم نہ کیا اس کے اختیاروں کو

Sunday, 14 December 2014

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا

مِرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
گِرا دیا ہے تو ساحل پہ انتظار نہ کر
اگر وہ ڈوب گیا ہے تو دور نکلے گا
اسی کا شہر، وہی مدعی، وہی منصف
ہمیں یقین تھا، ہمارا قصور نکلے گا

آج کی رات بھی گزری ہے مری کل کی طرح

آج کی رات بھی گزری ہے مِری کل کی طرح
ہاتھ آئے نہ ستارے تِرے آنچل کی طرح
حادثہ کوئی تو گزرا ہے یقیناً یارو
ایک سناٹا ہے مجھ میں کسی مقتل کی طرح
پھر نہ نکلا کوئی گھر سے کہ ہوا پھرتی تھی
سنگ ہاتھوں میں اٹھائے کسی پاگل کی طرح