Thursday, 3 December 2020

ان کی بے رخی میں بھی التفات شامل ہے

 ان کی بے رخی میں بھی التفات شامل ہے

آج کل مری حالت دیکھنے کے قابل ہے

قتل ہو تو میرا سا، موت ہو تو میری سی

میرے سوگواروں میں آج میرا قاتل ہے

ہر قدم پہ ناکامی، ہر قدم پہ محرومی

غالباً کوئی دشمن دوستوں میں شامل ہے

مضطرب ہیں موجیں کیوں اٹھ رہے ہیں طوفاں کیوں

کیا کسی سفینے کو آرزوئے ساحل ہے

صرف راہزن ہی سے کیوں امیؔر شکوہ ہو

منزلوں کی راہوں میں راہبر بھی حائل ہے


امیر قزلباش

No comments:

Post a Comment