ان کی بے رخی میں بھی التفات شامل ہے
آج کل مری حالت دیکھنے کے قابل ہے
قتل ہو تو میرا سا، موت ہو تو میری سی
میرے سوگواروں میں آج میرا قاتل ہے
ہر قدم پہ ناکامی، ہر قدم پہ محرومی
غالباً کوئی دشمن دوستوں میں شامل ہے
مضطرب ہیں موجیں کیوں اٹھ رہے ہیں طوفاں کیوں
کیا کسی سفینے کو آرزوئے ساحل ہے
صرف راہزن ہی سے کیوں امیؔر شکوہ ہو
منزلوں کی راہوں میں راہبر بھی حائل ہے
امیر قزلباش
No comments:
Post a Comment